پریاگ راج: اتر پردیش کے شہر پریاگ راج کی ادبی و ثقافتی فضا اس وقت ایک منفرد فکری نشست کی گواہ بنی جب بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے سی ایم ڈی و ایڈیٹر اِن چیف اوپیندر رائے نے ”کیلاش گوتم اسمرتی پستکالیہ“ کے افتتاحی موقع پر انسانیت، محبت اور بہادری کے موضوع پر گہرے اور متاثر کن خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں نہ صرف ایک مکمل انسان کی تعریف بیان کی بلکہ بہادر اور بزدل کے درمیان واضح فرق بھی سمجھایا۔ اوپیندر رائے نے اپنے خطاب میں ”انسانیت“ اور ”مکمل انسان“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ایک مکمل انسان بننے کے لیے چار بنیادی اصولوں پر پورا اترنا ضروری ہے اور ہر اصول انسان کی شخصیت کا 25 فیصد حصہ تشکیل دیتا ہے۔ ان کے مطابق جو شخص ان چاروں پیمانوں پر پورا اترتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں مکمل انسان کہلانے کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے پہلا اصول ”دوسروں کے درد کو کم کرنے کی کوشش“ قرار دیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کارل مارکس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سچا انسان وہی ہے جو کسی دوسرے کے دکھ کو کم کرنے کے لیے قدم آگے بڑھائے۔ انہوں نے معاشرے میں رائج تنگ نظری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف روایات کے پیچھے چلنا علم نہیں بلکہ اصل شعور یہ ہے کہ انسان ضرورت مندوں کی مدد کے لیے خود آگے آئے۔ دوسرے اصول کے طور پر انہوں نے ”بلا غرض مدد“ کو بیان کیا اور کہا کہ جو شخص اپنے وسائل اور محنت سے دوسروں کی مدد کرتا ہے، وہ اپنی انسانیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ ان کے مطابق یہی جذبہ انسان کو عام ہجوم سے ممتاز کرتا ہے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنتا ہے۔
اوپیندر رائے نے اپنی گفتگو کے دوران محبت کے موضوع پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کسی سے بے حد محبت کرنا اور اس کے لیے قربانی دینا انسان کو زندگی کی اصل حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ ان کے بقول، دنیا کا بیشتر ادب اسی جذبۂ محبت اور ایثار کے گرد گھومتا ہے، اور یہی احساس انسان کو گہرائی عطا کرتا ہے۔ انہوں نے چوتھے اصول کے طور پر ”دل ٹوٹنے کے تجربے“ کو بیان کیا اور کہا کہ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان اپنی ذات کو بہتر طور پر سمجھتا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے والمیکی کی مثال دی، جنہوں نے ایک پرندے کے جوڑے کے دکھ سے متاثر ہو کر اپنی زندگی بدل لی اور ایک عظیم شاعر بنے۔ اوپیندر رائے کے مطابق دنیا کے بیشتر شاہکار ادب اسی درد اور احساس کی پیداوار ہیں۔
اپنے خطاب کے آخری حصے میں انہوں نے بہادر اور بزدل کے تصور پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بہادر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو خوف نہ ہو، بلکہ اصل بہادر وہ ہے جو خوف کے باوجود خطرہ مول لے اور اپنے فرض کی راہ پر آگے بڑھے۔ ان کے مطابق خطرہ مول لینے کی صلاحیت ہی انسان کو مضبوط اور کامیاب بناتی ہے، جبکہ خوف کے آگے ہتھیار ڈال دینا بزدل کی علامت ہے۔ تقریب میں موجود سامعین نے ان خیالات کو بے حد سراہا اور اوپیندر رائے کی گفتگو کو ایک فکر انگیز اور رہنمائی فراہم کرنے والا پیغام قرار دیا۔ اس موقع پر نہ صرف ایک نئی لائبریری کا افتتاح ہوا بلکہ انسانیت، محبت اور حوصلے کے حوالے سے ایک نئی سوچ کو بھی فروغ ملا، جو حاضرین کے ذہنوں میں دیر تک قائم رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…