قومی

UPI Digital Payment: چائے کی ٹپری سے سات سمندر پار تک… ہر طرف یو پی آئی کا جلوہ، وزیر اعظم مودی کا ڈیجیٹل وژن کامیاب

نئی دہلی: بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام نے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جس کا تصور چند برس پہلے تک ممکن نہیں تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص گھر سے بغیر بٹوا لیے نکل جائے تو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ موبائل فون اور اس میں موجود یو پی آئی ایپ پوری دنیا میں ادائیگی کے لیے کافی ثابت ہو رہی ہے۔ چائے کی ٹپری سے لے کر بڑے شاپنگ مال اور ہوٹلوں تک ہر جگہ اسکین اینڈ پے عام ہو چکا ہے، جبکہ اب یہ سہولت بھارت کی سرحدوں سے باہر بھی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے دسمبر کے تازہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یو پی آئی نے ایک نیا ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ دسمبر کے مہینے میں یو پی آئی ٹرانزیکشن کے حجم میں سالانہ بنیاد پر 29 فیصد کا شاندار اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اس دوران تقریباً 21.63 بلین یعنی 2,163 کروڑ ٹرانزیکشن یو پی آئی کے ذریعے انجام دی گئیں، جو اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ رقم کے اعتبار سے بھی یو پی آئی نے بڑی چھلانگ لگائی ہے۔ دسمبر میں یو پی آئی کے ذریعے ہونے والے لین دین کی مجموعی مالیت تقریباً 28 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں قریب 20 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارتی عوام تیزی سے نقد رقم سے دور ہو کر ڈیجیٹل ادائیگی کو اپنا رہے ہیں اور یو پی آئی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔

یو پی آئی کی اس کامیابی کے پیچھے وزیر اعظم نریندر مودی کے مضبوط ڈیجیٹل وژن کو ایک بڑی وجہ مانا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے مختلف عالمی دوروں کے دوران بھارتی ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ ان کی ڈیجیٹل ڈپلومیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ فرانس، سنگاپور، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک نے یو پی آئی کو اپنے یہاں قبول کیا یا اس کے نفاذ کی منظوری دی۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ بیرون ملک جانے والے بھارتی شہریوں کو ہو رہا ہے۔ تعلیم، ملازمت یا سیاحت کے لیے جانے والے افراد اب غیر ملکی کرنسی کے جھنجھٹ سے بچ رہے ہیں اور یو پی آئی کے ذریعے آسانی سے ادائیگی کر پا رہے ہیں۔ یہ سہولت نہ صرف وقت بچاتی ہے بلکہ لین دین کو زیادہ محفوظ اور شفاف بھی بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یو پی آئی کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس کی سادگی اور سہولت ہے۔ نہ کارڈ رکھنے کی ضرورت، نہ لمبے عمل کی پریشانی، صرف موبائل نمبر یا کیو آر کوڈ سے ادائیگی ممکن ہے۔ چھوٹے دکانداروں سے لے کر بڑے کاروباری اداروں تک یو پی آئی پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھارت کے اس ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعریف ہو رہی ہے۔ دسمبر کے یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں بلکہ ایک بدلتے ہوئے، ڈیجیٹل اور خود کفیل بھارت کی مضبوط تصویر پیش کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts