قومی

Ayodhya Gang Rape Case Verdict: عدالت سے بری ہوئے سماجوادی پاری کے لیڈر معید خان کے خلاف ہائی کورٹ جائے گی یوپی حکومت، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟

ایودھیا میں 12 سال کی لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی معاملے میں سماجوادی پارٹی کے لیڈرمعین خان کومقامی عدالت نے بری کردیا ہے۔ اب اس فیصلے کواترپردیش کی یوگی حکومت الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج دینے کی تیاری کررہی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ ایک بارپھرسماجوادی پارٹی کے لیڈرمعید خان کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر وریندر کمارنے ہفتہ کے روزکہا کہ اترپردیش کی حکومت ہائی پروفائل ایودھیا اجتماعی عصمت دری کیس میں سماج وادی پارٹی کے رہنما معید خان کی بریت کوالہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

ایودھیا میں ایک خصوصی پاسکوعدالت نے جمعرات کومعید خان کو2024 کے ایک 12 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں بری کردیا جبکہ اس کے گھریلوملازم کو20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا، جب طبی معائنے کے دوران نابالغ لڑکی حاملہ پائی گئی، جس سے ریاست میں سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹروریندرکمارنے کہا کہ استغاثہ پاسکوعدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ معید خان کوبری کرنے کے عدالتی فیصلے کوہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اورکیس کی پیروی کی جائے گی۔

موجودہ ثبوت الزام نہیں ثابت کرتے: عدالت

کیس میں معید خان کوبری کرتے ہوئے اسپیشل جج (پاکسو) نروپما وکرم نے کہا کہ ریکارڈ پرموجود ثبوت، جس میں ڈی این اے رپورٹ بھی شامل ہے، ان کے خلاف الزامات کو ثابت نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ عدالت نے اس کے گھریلونوکرراجوخان کوقصوروارٹھہرایا اورجنین سے ڈی این اے ملنے کے بعد اسے 20 سال کی سخت قید کی سزا سنائی۔ دریں اثنا، متاثرہ کی ماں نے پولیس تفتیش میں لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس لاپرواہی کی وجہ سے معید خان کوبری کردیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے معید خان کے معاملے کی صحیح طریقے سے تفتیش نہیں کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈی این اے رپورٹ میں ردوبدل اورہیرا پھیری کی گئی۔ متاثرہ کی ماں نے راجوکی 20 سال کی سزا کومسترد کرتے ہوئے ملزم کوسزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ظہیرخان نے کہا- حکومت کی کارروائی کو کریں گے چیلنج

اس درمیان سماجوادی پارٹی کے لیڈرمعید خان کے بیٹے ظہیرخان نے کہا کہ فیملی ہائی کورٹ میں مضبوط پیروی کی تیاری کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 دکانوں والا ایک ملٹی اسٹوری شاپنگ کمپلیکس، جسے معاملہ سامنے آنے کے بعد ضلع انتظامیہ نے منہدم کردیا تھا، وہ اس کے والد کا نہیں بلکہ اس کے چچا اصغرعلی کا تھا، جو برطانیہ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلڈوزرکارروائی کوعدالت میں چیلنج دیا جائے گا۔ آبروریزی معاملے کی بنیاد پرگینگسٹرایکٹ کے تحت کی گئی کارروائی کو بھی چیلنج دیا جائے گا۔ ظہیرخان اپنے والد کو پھنسانے کے پیچھے سیاسی دشمنی کا الزام لگایا اوردعویٰ کیا کہ معید خان کا نام شروعاتی ایف آئی آرمیں نہیں تھا اوربعد میں جوڑا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالانکہ یہ الزام لگایا گیا تھا کہ حادثہ کا ایک ویڈیو بنایا گیا تھا، لیکن ٹرائل کے دوران ثبوت کے طورپرایسا کوئی ویڈیو پیش نہیں کیا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

9 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

9 hours ago