قومی

UP Cabinet Expansion: ”شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے…“، یوگی کابینہ توسیع سے قبل برج بھوشن کے پوسٹ نے مچائی ہلچل، سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز

لکھنؤ: اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی حکومت کے کابینہ توسیع پروگرام نے جہاں سیاسی سرگرمیوں کو تیز کردیا، وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کابینہ میں نئے وزراء کی شمولیت سے چند لمحے قبل کیے گئے اس پوسٹ کو حکومت اور پارٹی قیادت پر طنز تصور کیا جارہا ہے، جس کے بعد بی جے پی کے اندر ناراضگی اور اختلافات کی قیاس آرائیاں بھی زور پکڑنے لگی ہیں۔ برج بھوشن شرن سنگھ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک شعر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ”شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے، جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے“۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیغام محض ادبی اظہار نہیں بلکہ پارٹی قیادت کے لیے ایک اشارہ سمجھا جارہا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب کابینہ توسیع کے دوران ان کے بیٹے اور رکن اسمبلی پرتیک بھوشن سنگھ کو وزارت میں جگہ نہیں دی گئی۔

اتوار کو راج بھون میں منعقدہ تقریب میں گورنر آنندی بین پٹیل نے چھ بی جے پی لیڈروں کو وزیر کے طور پر حلف دلایا۔ ان میں منوج کمار پانڈے، بھوپیندر سنگھ، ہنس راج وشوکرما، کرشن پاسوان، سومیندر تومر اور اجیت سنگھ پال شامل ہیں۔ کابینہ توسیع کو آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل سماجی اور سیاسی توازن قائم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برج بھوشن شرن سنگھ طویل عرصے سے بی جے پی کے بااثر لیڈروں میں شمار ہوتے رہے ہیں اور اتر پردیش کی سیاست میں ان کا اثر و رسوخ اہم مانا جاتا ہے۔ ایسے میں ان کا یہ بیان معمولی نہیں سمجھا جارہا۔ پارٹی کے اندر یہ بھی چہ مگوئیاں ہیں کہ وہ تنظیم میں اپنی مبینہ نظراندازی سے ناخوش ہیں۔ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ ان کی ناراضگی صرف کابینہ میں نمائندگی نہ ملنے تک محدود نہیں بلکہ پارٹی کے حالیہ فیصلوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

برج بھوشن شرن سنگھ اپنی بے باک سیاسی انداز اور دوٹوک بیانات کے لیے مشہور رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ان کے کئی بیانات نے سیاسی ماحول کو گرم رکھا۔ اب ان کے تازہ پوسٹ کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگی ہیں کہ آیا وہ مستقبل میں کوئی بڑا سیاسی فیصلہ لینے والے ہیں۔ بعض سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں بھی جاری ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی سے قربت بڑھا سکتے ہیں، اگرچہ اس حوالے سے نہ تو اکھلیش یادو کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے اور نہ ہی برج بھوشن نے خود اس کی تصدیق کی ہے۔ کابینہ توسیع کے بعد بی جے پی کی اندرونی سیاست پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں اس صورتحال کو حکمراں پارٹی کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ قرار دے رہی ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اگر برج بھوشن شرن سنگھ کی ناراضگی برقرار رہی تو آئندہ 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اتر پردیش کی سیاست میں نئی صف بندیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ فی الحال ان کے ایک مختصر مگر معنی خیز پوسٹ نے سیاسی حلقوں میں بے چینی اور بحث کا نیا دروازہ کھول دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Football Player Kajra Murmu Dies: فٹبال میدان میں خوفناک حادثہ! میچ کے دوران ٹکر سے بے ہوش ہوا کھلاڑی، علاج کے دوران موت

بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…

1 hour ago

Rahul Gandhi Attacks BJP: گیانیش کمار کو پہلے امپائر بنایا، پھر ’میچ فکسنگ‘ کی ذمہ داری بھی دے دی؟ راہل گاندھی کا بی جے پی پر حملہ

کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…

1 hour ago

Kunal Ghosh Car Attack: ’مجھے واپس لوٹنے کے لیے کہا جا رہا تھا‘، ٹی ایم سی رکن اسمبلی کونال گھوش کی گاڑی پر حملہ، ممتا بنرجی نے کی مذمت

سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…

1 hour ago

Uttar Pradesh Heavy Rain: یوپی میں 50 گھنٹے سے طوفانی بارش کا قہر، 17 افراد جاں بحق، 32 اضلاع میں سیلاب کا خطرہ

ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…

2 hours ago