مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے ’رجیم چینج‘ یعنی حکومت کی تبدیلی کی وکالت کرنے والوں کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غداروں کو کبھی معاف نہ کریں۔ ان کا یہ بیان سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے حکومت بدلنے سے متعلق بیان پر شروع ہونے والے سیاسی تنازع کے درمیان سامنے آیا ہے۔
کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پر کیا لکھا؟
کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’پیارے محب وطن ہندوستانیو، یاد رکھیں، اپنے دشمنوں کو ایک بار معاف کرو، دوستوں کو دو بار، لیکن غداروں کو کبھی نہیں۔‘‘ مرکزی وزیر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے پرشانت بھوشن کی پریس کانفرنس کی ایک ویڈیو شیئر کی۔ اس ویڈیو میں سینئر وکیل نے کھلے عام ’رجیم چینج‘ کے مطالبے کو تسلیم کیا تھا۔ پریس کانفرنس کے دوران بھوشن نے کہا تھا، ’’ہاں، ہم رجیم چینج چاہتے ہیں۔‘‘
پرشانت بھوشن کے کشمیر سے متعلق پرانے بیان کا بھی ذکر
اس سے پہلے کرن رجیجو نے پرشانت بھوشن کے 2011 کے کشمیر سے متعلق بیان کی ویڈیو بھی شیئر کی تھی۔ اس ویڈیو میں بھوشن کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا، ’’اگر کشمیری لوگ الگ ہونا چاہتے ہیں تو انہیں الگ ہونے دو۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں رجیجو نے اس سیاسی لڑائی کو سخت الفاظ میں بیان کرتے ہوئے آئین کی حمایت کرنے والوں اور انتشار پھیلانے والوں کے درمیان فرق بتایا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا تھا، ’’لڑائی کی لکیر کھنچ چکی ہے۔ یہ ذہنی نکسل بمقابلہ محب وطن ہندوستانی ہے۔‘‘
’رجیم چینج‘ کے مطالبے پر سیاسی تنازع تیز
اس پورے معاملے نے ’رجیم چینج‘ کے مطالبے کے معنی اور اس کے اثرات پر سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکمراں پارٹی کے لیڈروں نے اپوزیشن اور مظاہرے کے منتظمین پر حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔
اس سے پہلے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی اس معاملے پر اپوزیشن کو گھیرتے ہوئے تنقید کی تھی۔ لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ’رجیم چینج‘ کی اصطلاح کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ مظاہرین کا مقصد انتشار پھیلا کر اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اپوزیشن کی لڑائی نہ تو الیکشن کمیشن کے لیے ہے اور نہ ہی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے لیے، بلکہ اس کا واحد مقصد بدنظمی پیدا کرکے اقتدار حاصل کرنا ہے۔
بنگلہ دیش کا حوالہ دے کر لگائے الزامات
راج ناتھ سنگھ نے بنگلہ دیش کا ذکر کرتے ہوئے ’رجیم چینج‘ کی وکالت کرنے والوں پر حکومت گرانے اور جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کو انتشار پھیلانے کا لائسنس نہیں بنایا جا سکتا۔ سیاسی لیڈروں کو عوام کے مینڈیٹ اور ملک کے آئینی اداروں کا احترام کرنا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…
ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…
پی سی جیولر میں بڑے سرمایہ کار کی سرمایہ کاری کے بعد حصص میں زبردست…
سعودی عرب میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے درمیان ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور…
پولیس نے نوٹس میں کہا ہے کہ کناٹ پلیس میں بڑی تعداد میں دکانیں، شوروم،…
بہار میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کے درمیان جے ڈی یو کے رکن اسمبلی…