مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔
نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے پیر کے روز بھارت کی پہلی قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی اور حکمت عملی ’پرہار‘ جاری کر دی۔ اسے دہشت گردی کی تمام اقسام سے نمٹنے کی ملک کی طویل مدتی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ’پرہار‘ کے نام سے جاری اس جامع پالیسی کا مقصد سرحد پار دہشت گردی، ڈرون حملوں، سائبر خطرات اور منظم دہشت گرد نیٹ ورکس سمیت ابھرتے اور پیچیدہ سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک منظم قومی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔
دہشت گردی کو کسی مذہب سے جوڑنے کی تردید
دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارت دہشت گردی کو کسی مخصوص مذہب، نسل، قومیت یا تہذیب سے جوڑنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ پالیسی میں دہشت گردی اور تشدد کے خلاف حکومت کے غیر متزلزل ’’زیرو ٹالرنس‘‘ مؤقف کو دہرایا گیا ہے اور متاثرین کی معاونت پر زور دیا گیا ہے۔ آٹھ صفحات پر مشتمل یہ دستاویز وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹ پر عوامی طور پر دستیاب ہے۔ پالیسی میں علاقائی عدم استحکام، غیر مستحکم علاقوں کے وجود اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی جیسے معاملات کو اجاگر کرتے ہوئے روک تھام، بروقت اور مؤثر جواب، بین الاداراتی ہم آہنگی میں بہتری اور انسانی حقوق و قانون کی حکمرانی کی سختی سے پاسداری پر مبنی کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔ ’پرہار‘ (جس کا مطلب حملہ ہے) بھارت کے انسدادِ دہشت گردی فریم ورک کے سات اہم ستونوں کی نمائندگی کرتا ہے:
دہشت گرد حملوں کی روک تھام
فوری اور مناسب ردِعمل
سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی صلاحیت میں اضافہ
انسانی حقوق کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانا
شدت پسندی کو فروغ دینے والے حالات کا تدارک
بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا
سماجی لچک اور بحالی کو فروغ دینا
ابھرتے خطرات پر تشویش
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی بدستور بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے اور انتہا پسند تنظیمیں ملک کے اندر حملوں کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ القاعدہ اور داعش جیسے عالمی دہشت گرد گروہ مبینہ طور پر سلیپر سیلز کو متحرک کرنے اور تشدد بھڑکانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ دہشت گرد عناصر تیزی سے جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً ڈرون کا استعمال کر رہے ہیں، بالخصوص پنجاب اور جموں و کشمیر جیسے حساس علاقوں میں۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مالی نیٹ ورک
پالیسی میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا، خفیہ پیغام رسانی ایپس، ڈارک ویب اور کرپٹو کرنسی جیسے ڈیجیٹل ذرائع دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے اہم ہتھیار بن چکے ہیں، جنہیں پروپیگنڈا، بھرتی، فنڈنگ اور آپریشنل ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ دستاویز میں دہشت گرد نیٹ ورکس اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو اسلحہ کی غیر قانونی سپلائی، بھرتی اور مالی بہاؤ کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔ پالیسی کے تحت ریلوے، ہوابازی نیٹ ورک، بندرگاہیں، دفاعی تنصیبات، خلائی اثاثے اور جوہری توانائی کے مراکز سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کو بہتر تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ زمینی، بحری اور فضائی سرحدوں پر جدید نگرانی اور شناختی ٹیکنالوجی تعینات کی جائے گی۔
تحقیق اور کارروائی کا نظام
ردِعمل کے نظام کے تحت دہشت گردی کے واقعات میں مقامی پولیس اولین کارروائی کرے گی، جبکہ ریاستی انسدادِ دہشت گردی یونٹس اور نیشنل سکیورٹی گارڈ جیسے خصوصی قومی دستے بڑے آپریشنز میں مدد فراہم کریں گے۔ دہشت گردی سے متعلق جرائم کی تحقیقات نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد ہوں گی، جس کا مقصد مؤثر پیروی اور زیادہ سے زیادہ سزا کی شرح کو یقینی بنانا ہوگا۔ حکومت کے مطابق ’پرہار‘ پالیسی بھارت کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور دہشت گردی کے خلاف مربوط اور سخت موقف اختیار کرنے کی سمت ایک جامع قدم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…
وائرل ویڈیو نے ایک بار پھر پولیس محکمہ میں نظم و ضبط اور وردی کے…
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…