عمرخالد کو کڑکڑ ڈوما کورٹ سے عبوری ضمانت نہیں ملی ہے۔ (فائل فوٹو)
دہلی فسادات معاملے میں ملزم اور جے این یو کے طالب علم رہے عمرخالد کو بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے عمرخالد کو بہن کی شادی میں شامل ہونے کے لئے عبوری ضمانت دی ہے۔ یہ ضمانت 16 سے 29 دسمبر تک کے لئے ملی ہے۔ دہلی کی کڑکڑڈوما کورٹ نے عمرخالد کو ضمانت دی ہے۔ عدالت نے ضمانت دیتے ہوئے کچھ شرائط بھی طے کی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اس دوران عمرخالد سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرسکیں گے۔ وہ صرف اپنے اہل خانہ، دوستوں اوررشتہ داروں سے ملاقات کرسکیں گے۔
ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس بات کودھیان میں رکھتے ہوئے کہ شادی عرضی گزارکی سگی بہن کی ہے، اس لئے عرضی منظورکی جاتی ہے۔ عرضی گزاروں کو 16 دسمبر سے 29 دسمبرتک 20 ہزارروپئے کے پرسنل بانڈ اوراتنی ہی رقم کے دوضمانت داروں کے ساتھ کچھ شرائط پرعبوری ضمانت دی جاتی ہے۔ اس سے پہلے عمرخالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ کی ضمانت عرضی بھی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی تھی، جس پرزبردست بحث ہوئی۔ عدالت نے سماعت کے بعد ضمانت عرضی پرفیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…