قومی

DMK impeachment notice: سوامی ناتھن کے خلاف مواخذہ کیوں چاہتا ہے اپوزیشن؟ جانیے تنازعہ کی اصل وجہ

ڈرِوِڈ مُنیتر کڑگم (DMK) نے مدراس ہائی کورٹ کے جج جی آر سوامیناتھن کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی مانگ کی ہے۔ منگل کو پارٹی کی لیڈر کنی موزھی، لوک سبھا کے لیڈر ٹی آر بالو، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھیلش یادو اور کانگریس لیڈر پریانکا گاندھی واڈرا نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو 120 اراکینِ پارلیمنٹ کے دستخطوں کے ساتھ مواخذے کا نوٹس جمع کرایا۔ یہ نوٹس 9 دسمبر 2025 کو جاری کیا گیا تھا اور اس میں آئین کے آرٹیکل 217 اور 124 کا حوالہ دیا گیا ہے۔

الزامات کیا ہیں؟

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جج سوامیناتھن کے رویے نے عدالتی غیر جانبداری اور شفافیت پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سینئر وکیل اور ایک مخصوص کمیونٹی کے وکلاء کو غیر مناسب فائدہ پہنچایا۔ ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ان کے فیصلے سیاسی نظریات سے متاثر تھے جو آئینی سیکولر اصولوں کے خلاف ہیں۔ نوٹس کے ساتھ صدر اور چیف جسٹس کو بھی خطوط کی کاپیاں بھیج دی گئی ہیں۔

تنازعہ کیا ہے؟

یہ تنازعہ تروپارنکندرم میں کارتیکائی دیپم تقریب کو لے کر شروع ہوا، جہاں مندر اور نزدیکی درگاہ کے درمیان طویل عرصے سے اختلافات موجود تھے۔ جج نے حکم دیا کہ عقیدت مندوں کے ایک چھوٹے گروپ کو سکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں دیپ دان ستون پر دیپ جلانے کی اجازت دی جائے۔ مندر اور درگاہ کی انتظامیہ کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے کسی کمیونٹی کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔

سماجی تناؤ کا خدشہ

ڈی ایم کے اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ یہ حکم 2017 کے فیصلے کو کمزور کرتا ہے جس میں عدالت کو مندر کی تقریبات میں مداخلت سے روکا گیا تھا۔ ان کا استدلال ہے کہ اس فیصلے سے سماجی اور مذہبی تناو بڑھ سکتا ہے۔ ریاستی حکومت نے بھی قانون و نظم کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے حکم نافذ کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں ہندو تنظیموں نے احتجاج کیا اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ معاملہ اب سیاسی اور عدالتی کشمکش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

مواخذے کا عمل کیا ہے؟

بھارت میں کسی موجودہ جج پر مواخذہ چلانا ایک انتہائی سنگین آئینی عمل ہے۔ آرٹیکل 124(4) اور ججز (انکوائری) ایکٹ، 1968 کے تحت یہ عمل متعین ہے۔ لوک سبھا میں قرارداد پیش کرنے کے لیے کم از کم 100 اور راجیہ سبھا میں 50 اراکین کے دستخط ضروری ہیں۔ اگر قرارداد قبول ہو جائے تو سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج، ہائی کورٹ کے ایک چیف جسٹس اور ایک معتبر قانونی ماہر پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تحقیقات کرتی ہے۔

پارلیمنٹ میں ووٹنگ اور صدر کا کردار

اگر کمیٹی الزامات کو درست پاتی ہے تو قرارداد پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہے۔ اسے منظور کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں اکثریت ضروری ہے۔ دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد صدر جج کو عہدے سے ہٹانے کا رسمی حکم جاری کرتے ہیں۔

حال ہی کی مثالیں

مارچ 2025 میں دہلی ہائی کورٹ کے جج یشونت ورما کے گھر سے بڑی مقدار میں نقدی برآمد ہونے کے بعد ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہوئی۔ اسی طرح دسمبر 2024 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے جج شیکھر کمار یادو کے خلاف بھی قرارداد پیش کی گئی تھی، لیکن عملی رکاوٹوں کے باعث آگے نہیں بڑھ سکی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

17 minutes ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

1 hour ago

SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…

2 hours ago

Amit Shah Tribute: وزیر داخلہ امت شاہ کا خراج عقیدت: تیسرے پاتشاہ شری گرو امرداس جی کے جوتی جوت دیوس پر پیش کیا نمن

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…

2 hours ago