اولینا الچک (تصویر: نیوز18)
یوکرین کی قونصلر شعبے کی تیسرے درجے کی سیکریٹری اولینا الچک نے روس-یوکرین جنگ کے دوران بھارت کی جانب سے دی گئی انسانی امداد پر وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت گلوبل ساؤتھ میں قیادت کا کردار ادا کر رہا ہے اور دنیا کو تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑے مزید ممالک کی ضرورت ہے۔ یہ بات انھوں نے نیوز 18 کے پروگرام “SheShakti 2025” کے دوران “Diplomacy through her lens” کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں کہی، جہاں لتھوانیا کی بھارت میں سفیر ڈیانا میکیویچیانے بھی موجود تھیں۔
اولینا الچک نے جنگ سے بے گھر ہونے والی خواتین اور بچوں کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بے شمار خواتین نے اپنے بچوں کو مسلسل بمباری سے بچانے کے لیے اپنا ملک چھوڑا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ ایک ایسی ہجرت ہے جو کسی منصوبے کے بغیر ہوئی اور عام زندگی گزارنا ان خواتین کے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے۔‘‘ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پوتن کی حالیہ ملاقات پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب پوتن الاسکا میں تھے، تب بھی یوکرین پر بمباری جاری تھی۔ یہ روسی سفارتی کوششوں کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
اولینا الچک نے کہا کہ’’یہ صرف زمین کے لیے نہیں، بلکہ یوکرینی شناخت، زبان اور قومیت کے وجود کی جنگ ہے۔ روس یوکرین کو ایک علیحدہ قوم کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘‘ وہیں لتھوانیا کی سفیر نے روس کے نیٹو سے خطرہ محسوس کرنے کو غیر منطقی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’روس پر آخری حملہ کرنے والا ملک چین تھا، وہ بھی 1969 میں۔ نیٹو کی اس کے سرحدوں تک رسائی حملے کی علامت نہیں ہو سکتی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…