یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئے قواعد نافذ ہونے کے بعد سے تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ سڑکوں سے لے کر سیاسی ایوانوں تک ان قواعد پر بحث تیز ہے۔ کہیں طلبہ احتجاج کرتے نظر آ رہے ہیں تو کہیں سیاسی جماعتیں اس معاملے پر آمنے سامنے ہیں۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ یو جی سی تنازع کی شروعات کہاں سے ہوئی اور اب تک اس میں کیا کچھ ہو چکا ہے۔ آئیے جانتے ہیں۔
یو جی سی کا نیا قاعدہ کیا ہے؟
یو جی سی کے نئے قواعد 13 جنوری 2026 کو نافذ کیے گئے۔ ان قواعد کا نام ہے‘Promotion of Equity in Higher Education Institutions Regulations 2026’۔ انہی قواعد سے متعلق ملک بھر میں حکومت کی مخالفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ خاص طور پر جنرل کیٹیگری (سَورن) کے طلبہ ان قواعد سے ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا غلط استعمال سَورن سماج کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔
سَورن سماج کا کیا مؤقف ہے؟
جنرل کیٹیگری کے طلبہ کا کہنا ہے کہ نئے قواعد میں جھوٹی شکایات پر کارروائی سے متعلق کوئی واضح شق شامل نہیں کی گئی ہے۔ اس سے بغیر ٹھوس ثبوت کے کسی پر بھی من مانے الزامات لگائے جا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ کو ذہنی اور تعلیمی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور ان کا کیریئر متاثر ہو سکتا ہے۔طلبہ نے یہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ ایکویٹی کمیٹی میں جنرل کیٹیگری کی نمائندگی کو لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ اس کے علاوہ، ایکویٹی اسکواڈ کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں، جبکہ ’’امتیاز‘‘ کی واضح تعریف بھی طے نہیں کی گئی ہے۔
یو جی سی کا مؤقف کیا ہے؟
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئے قواعد میں سیکشن 3(C) کو لے کر تنازع کھڑا ہوا ہے۔ سیکشن 3(C) میں کہا گیا ہے کہ یہ ضابطہ ایس سی، ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات کے طلبہ کے ساتھ ہونے والے ذات پات پر مبنی امتیاز کو روکنے اور کم کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ اس کے تحت تمام یونیورسٹیوں، کالجوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو کیمپس میں 24×7 ہیلپ لائن، مساوی مواقع مرکز (Equal Opportunity Centre)، ایکویٹی اسکواڈ (Equity Squads) اور ایکویٹی کمیٹی (Equity Committee) قائم کرنا لازمی ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور امریکی سفیر سرجیو گور نے ریلائنس انڈسٹریز کے جام…
وزیر اعظم نریندر مودی 25 اکتوبر 2026 کو اپنے پارلیمانی حلقے وارانسی کا دورہ کریں…
دہلی ہائی کورٹ 22 اکتوبر کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا…
اتر پردیش کے گورکھپور کے گلریہا علاقے میں درگا مورتی وسرجن کے دوران ٹریکٹر ٹرالی…
اجین سے ایودھیا تک دگ وجے سنگھ کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل ’ستیہ سناتن سوا…
ہندوستان کی آزادی کے وقت تاریخی سینگول کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے…