قومی

Shankaracharya on Alankar Agnihotri Resignation: “چلو کوئی تو ہندو دھرم کا اَلنکار(زیور) نکلا…” سٹی مجسٹریٹ اَلنکار اگنی ہوتری کے استعفے پر شَنکراچاریہ نے یوگی حکومت کو گھیرا

بریلی کے سٹی مجسٹریٹ اَلنکار اگنی ہوتری نے شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند  سرسوتی کے شاگردوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے معاملے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے ایک خط لکھ کر حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی۔ اب اس معاملے پر شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند  نے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’چلو، کوئی تو ہندو دھرم کا اَلنکار نکلا۔‘‘ سٹی مجسٹریٹ کے استعفے کے معاملے پر سیاسی گہماگہمی تیز ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق کئی افسران انہیں استعفیٰ واپس لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے استعفے پر ردِعمل دیتے ہوئے اَلنکار اگنی ہوتری نے کہا کہ شنکراچاریہ کے ساتھ ہوئے اس مبینہ بدسلوکی کے واقعے سے کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ جب سے یوگی آدتیہ ناتھ ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے ہیں، تب سے صوبے میں بچوں، خواتین اور برہمنوں پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔

وہیں اَلنکار اگنی ہوتری کے استعفے پر اوی مکتیشورانند  نے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے عہدے تک پہنچنے کے لیے لوگ برسوں محنت کرتے ہیں۔ ایک سٹی مجسٹریٹ کا استعفیٰ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے دل میں سناتن دھرم کے لیے کتنا احترام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی تو ہندو دھرم کا اَلنکار نکلا، جس کے دل میں سناتن کے تئیں سچی عقیدت موجود ہے۔

یو جی سی کے ضابطوں پر سخت اعتراض

شنکراچاریہ نے کہا کہ سال 2022 سے اتر پردیش میں نافذ کی گئی حکومتی پالیسیاں پورے صوبے میں برہمن مخالف اور دھرم مخالف ہیں۔ انہوں نے یو جی سی کے نئے قانون کو سماج کو توڑنے والا قرار دیا اور کہا کہ یہ ہندو سماج کے اندر اختلافات کو ہوا دیتا ہے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ہی کیمپس میں دو مختلف ذاتوں کے لوگ پڑھتے ہیں، دونوں ہندو ہیں، لیکن یہ قانون انہیں آپس میں لڑاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پورے ہندو سماج کو آپس میں لڑا کر ختم کرنے کی سازش ہے، جسے فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔

برہمنوں کی توہین کا الزام

اوی مکتیشورانند  نے ریاست کی یوگی حکومت پر دھرم، برہمنوں اور ثقافت کی توہین کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں دھرم اور ثقافت کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اَلنکار اگنی ہوتری جیسے افسر کا استعفیٰ، جو دھرم اور ثقافت کے لیے احترام رکھتے ہیں، اس بات کی علامت ہے کہ حالات کس قدر افسوسناک ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

4 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

5 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

5 hours ago