نئی دہلی :مہاراشٹر کی سیاست ایک بار پھر سرگرم ہو گئی ہے۔ شیوسینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے بعض ارکانِ پارلیمنٹ کے پارٹی چھوڑنے اور نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کے درمیان پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو اپنے تمام لوک سبھا اراکین کی اہم میٹنگ طلب کر لی ہے۔ یہ میٹنگ ممبئی کے باندرہ ایسٹ علاقے میں واقع ان کی رہائش گاہ “ماتوشری” میں منعقد ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق میٹنگ دوپہر 12 بجے شروع ہوگی، جب کہ پارٹی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ صبح 11 بجے سے شروع ہو جائے گا۔ اس اجلاس میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے تمام نو ارکانِ پارلیمنٹ کو شرکت کی ہدایت دی گئی ہے۔ ادھو ٹھاکرے خود بھی اجلاس میں موجود رہیں گے اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔گزشتہ چند دنوں سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے کچھ ارکانِ پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کے رابطے میں ہیں۔
ان خبروں کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ “آپریشن ٹائیگر” کے تحت بعض اراکین حکمراں شیوسینا کا رخ کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں اتوار کامیٹنگ انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔خاص طور پر رکن پارلیمنٹ سنجے عرف بندو جادھو کی سرگرمیوں پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، کیونکہ وہ پارٹی کی چند حالیہ میٹنگوں میں غیر حاضر رہے تھے۔ ایسے میں آج کی میٹنگ میں ان کی شرکت یا عدم شرکت کو سیاسی طور پر اہم اشارہ تصور کیا جا رہا ہے۔شیو سینا (یو بی ٹی) کے لوک سبھا میں کل نو ممبران پارلیمنٹ ہیں، جن میں اروند ساونت (ممبئی ساؤتھ)، سنجے دیش مکھ (یوتمال-واشیم)، ناگیش باپوراو پاٹل اشتیکر (ہنگولی)، سنجے ہری بھاؤ جادھو (پربھنی)، راجہ بھاؤ واجے (ناسک)، سنجے بھاوا پاٹل (نارتھ ایوب)، راجہ بھاؤ (ناسک) شامل ہیں۔ وکچورے (شرڈی)، انیل دیسائی (ممبئی ساؤتھ سینٹرل) اور اوم پرکاش راجینیمبالکر (عثمان آباد)۔ ان قیاس آرائیوں کے درمیان کہ کچھ ممبران پارلیمنٹ ایکناتھ شندے کے ساتھ رابطے میں ہیں، ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو ‘ماتوشری’ میں ان تمام ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ بلائی ہے۔
دوسری جانب ایکناتھ شندے نے حال ہی میں دہلی میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور اب کسی “نمبروں کے کھیل” کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر شیوسینا (یو بی ٹی) کے کچھ ارکان واقعی شندے گروپ میں شامل ہوتے ہیں تو اس کے مہاراشٹر کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ماتوشری میں ہونے والا اجلاس ایک معمول کی تنظیمی میٹنگ ہے اور اس کا پارٹی تبدیلی کی خبروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ادھر سیاسی منظرنامہ اس لیے بھی دلچسپ ہو گیا ہے کیونکہ ترنمول کانگریس کے باغی دھڑے کی جانب سے بی جے پی کی حمایت کے دعووں نے مرکز کی سیاسی مساوات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایسے میں ادھو ٹھاکرے کی یہ میٹنگ مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ قومی سیاست کے لیے بھی خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بہار کے موکاما سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، عدالت نے…
تاریخ کی کتابوں میں اتر پردیش کے سنولی اور ہریانہ کے راکھی گڑھی میں ہونے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ’بھارت بووائن بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹر‘ کے مویشی فارم کا…
وزیر اعظم جمعہ کو گجرات کے ضلع بناس کانٹھا کے دورے پر ہیں، بھلڑی میں…
راشد خان صرف ٹی 20 انٹرنیشنل ہی نہیں بلکہ مجموعی ٹی 20 کرکٹ میں بھی…
زمبابوے کے خلاف 50 گیندوں پر 116 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، چھٹے یا…