قومی

Turkey rejects plane maintenance claims: ائیرانڈیا طیارے حادثے کا ترکش کنکشن! ترکی نے طیارے کی دیکھ بھال سے متعلق دعوے کو مسترد کیا، ایئر انڈیا طیارہ حادثے سے جڑ رہا تھا نام

احمد آباد میں پیش آئے ایئر انڈیا طیارہ حادثے سے ترکی نے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والے بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر کی مینٹیننس کے حوالے سے ترکی کی کمپنی کا نام سامنے آ رہا تھا، لیکن اب ترکی نے ان دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔ ایک بیان میں “سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈس انفارمیشن” نے واضح کیا کہ ترکی ٹیکنیک کی طرف سے طیارے کی سروسنگ کے دعوے جھوٹے ہیں۔

تعلقات کو متاثر کرنے کی کوشش

ادارے نے کہا: ’’یہ دعویٰ کہ حادثے کا شکار ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ ’بوئنگ 787-8‘ ترکی ٹیکنیک نے مینٹین کیا تھا، سراسر جھوٹ ہے۔ اس دعوے کا مقصد ترکی-بھارت تعلقات کے بارے میں عوامی رائے کو متاثر کرنا ہے اور یہ غلط معلومات اسی مقصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔‘‘

احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لندن روانہ ہونے والا مسافر طیارہ جمعرات کی دوپہر صرف چند منٹ بعد حادثے کا شکار ہو گیا۔ زمین پر گرنے سے قبل یہ طیارہ ایئرپورٹ کے قریب واقع بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے بھی ٹکرا گیا تھا۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار مسافروں کے علاوہ میڈیکل طلبہ اور ڈاکٹروں کی بھی جانیں چلی گئیں۔

ڈریم لائنر سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں

ادارے نے مزید کہا کہ ایئر انڈیا اور ترکیش ٹیکنیک کے درمیان 2024 اور 2025 میں جو معاہدہ ہوا تھا، وہ صرف بی777 قسم کے وائڈ باڈی طیاروں کی مینٹیننس کے لیے ہے۔ حادثے میں ملوث بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر اس معاہدے میں شامل نہیں ہے۔ اب تک، ترکیش ٹیکنیک نے اس قسم کے کسی بھی ایئر انڈیا طیارے کی دیکھ بھال نہیں کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ ہمیں معلوم ہے کہ حادثہ کا شکار طیارے کی حالیہ مینٹیننس کس کمپنی نے کی تھی، تاہم قیاس آرائیوں سے بچنے کے لیے اس پر مزید تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔ اس میں کہا گیا: ’’ہم غلط معلومات کا مقابلہ کرتے رہیں گے، اور یہ مرکز ان کوششوں کی نگرانی اور کارروائی جاری رکھے گا جو ترکی کی بین الاقوامی ساکھ اور معروف برانڈز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘

لاشوں کی شناخت بھی مشکل

احمد آباد سے لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ جا رہا ایئر انڈیا کا طیارہ AI-171 جمعرات کی دوپہر پرواز کے کچھ ہی دیر بعد حادثے کا شکار ہو گیا۔ طیارہ گرنے سے پہلے ایک ہاسٹل کی عمارت سے ٹکرا گیا، جس سے نہ صرف ہاسٹل بلکہ آس پاس کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس طیارے میں کل 242 افراد سوار تھے، جن میں 230 مسافر، دو پائلٹ اور 10 کریو ممبر شامل تھے۔ ان میں سے 241 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف ایک شخص، بھارتی نژاد برطانوی شہری “رمیس وشواس کمار” زندہ بچ پائے ہیں۔ طیارے میں آگ لگنے اور شدید درجہ حرارت کی وجہ سے زیادہ تر لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں، جن کی شناخت کرنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

ترکی کے ساتھ تعلقات خراب

اسی وجہ سے ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور تصدیق کے بعد لاشیں لواحقین کے حوالے کی جا رہی ہیں۔ اب تک 33 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے، جن میں گجرات کے سابق وزیراعلیٰ وجے روپانی کی لاش بھی شامل ہے۔ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو (AAIB) نے واقعے کے 28 گھنٹے بعد بلیک باکس برآمد کر لیا ہے اور اس بڑے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

پاکستان کے خلاف بھارت کے “آپریشن سندور” کے بعد سے ترکی کے ساتھ تعلقات میں تلخی آ گئی ہے۔ ترکی نے کھلے عام پاکستان کا ساتھ دیا تھا، حتیٰ کہ بھارت کے خلاف استعمال ہونے والے زیادہ تر ہتھیار بھی ترکی میں تیار شدہ تھے۔ اس کے بعد بھارت میں ترک مصنوعات کا بائیکاٹ شروع ہو گیا اور حکومت نے بھی کئی ترک کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔ اس طرح ترکی کو اپنے “پاکستانی عشق” کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے، اور اس کی کمپنیاں شدید مالی نقصان کا سامنا کر رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Delhi HC Order: پی ایم مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم

عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…

60 minutes ago

Sanjay Mishra Autobiography: ’میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں، پھر بھی لکھوں گا…‘ نیشنل ایوارڈ یافتہ سنجے مشرا لا رہے ہیں اپنی خودنوشت

’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…

1 hour ago

Sikkim Rimbi Landslide: سکّم میں بارش کا قہر، ملبے کی زد میں گھر اور سڑکیں، 32 مکانات اب بھی خطرے میں

گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…

2 hours ago