ہندوستانی فوج نے گلوان وادی اور سیاچن گلیشیئر جیسے حساس سرحدی علاقوں میں مواصلاتی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ان علاقوں میں 4G اور 5G نیٹ ورکس کی تنصیب کا عمل شروع ہو چکا ہے تاکہ فوجی آپریشنز کو بہتر بنایا جا سکے اور رابطوں کو موثر بنایا جا سکے۔ یہ اقدام خاص طور پر لائن آف ایکنچوئل کنٹرول (LAC) کے قریب واقع ان علاقوں میں اہم ہے جہاں ہندوستان اور چین کے درمیان حالیہ برسوں میں تناؤ دیکھا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد فوجیوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ اور بہتر مواصلاتی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے فرائض کو زیادہ بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔
یہ نیٹ ورکس نہ صرف فوجی مواصلات کو بہتر بنائیں گے بلکہ ان علاقوں میں تعینات فوجیوں کے لیے ڈیجیٹل رابطوں کو بھی آسان بنائیں گے۔ سیچن گلیشیئر، جو دنیا کا سب سے بلند جنگی میدان سمجھا جاتا ہے، اور گلوان وادی جیسے دشوار گزار علاقوں میں مواصلاتی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ 4G اور 5G ٹیکنالوجی کی تنصیب سے فوجی دستوں کو ریئل ٹائم ڈیٹا، ویڈیو کالنگ، اور دیگر جدید مواصلاتی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے نہ صرف فوجی حکمت عملی کو تقویت ملے گی بلکہ ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔
اس منصوبے کے تحت، ہندوستانی فوج نے نجی ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ ان علاقوں میں ٹاورز اور دیگر ضروری ڈھانچہ تیار کیا جا سکے۔ سخت موسمی حالات اور دشوار گزار خطوں کے باوجود، فوج اور ٹیلی کام کمپنیاں مل کر اس چیلنج سے نمٹ رہی ہیں۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی سے نہ صرف فوجی مواصلات بہتر ہوں گے بلکہ ان علاقوں میں رہنے والے مقامی لوگوں کو بھی انٹرنیٹ کی سہولت میسر آ سکے گی، جو ان کی معاشی اور سماجی ترقی میں مددگار ثابت ہوگی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، اس منصوبے کو مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا اور اس کا ایک بڑا حصہ 2025 تک فعال ہو جائے گا۔ گلوان وادی میں 2020 کے تنازع کے بعد سے ہندوستان نے سرحدی علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس تناظر میں، جدید مواصلاتی نظام کی تنصیب ایک اسٹریٹجک اقدام ہے جو ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے گا۔ اس کے علاوہ، یہ منصوبہ فوجیوں کے مورال کو بھی بلند کرے گا کیونکہ وہ اپنے خاندانوں سے بہتر رابطہ قائم کر سکیں گے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام ہندوستان کی سرحدی حکمت عملی میں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے فوج نہ صرف اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر بنائے گی بلکہ سرحدی علاقوں میں استحکام کو بھی یقینی بنائے گی۔ یہ منصوبہ ہندوستان کے اس عزم کا بھی عکاس ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔ آنے والے سالوں میں، اس طرح کے منصوبوں سے ہندوستان کی فوج عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی سے لیس فوج کے طور پر مزید نمایاں ہوگی۔
بھارت ایکسپریس۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…