وزیر اعظم نریندر مودی۔
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کہا کہ اختراع اور عالمی شراکت داری کے ذریعے روایتی بھارتی دستکاری ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا ایک مضمون شیئر کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ‘ پہل مقامی دستکاری کو بازار تک رسائی دلانے، پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بھارت کی عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
کاریگروں کو عالمی منڈی سے جوڑنے کی کوشش
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ چنئی میں قائم وسترکلا اس بات کی بہترین مثال ہے کہ فرانس جیسے ممالک کے ساتھ تعاون کس طرح بھارتی کاریگروں کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں پیرس میں منعقدہ سرمایہ کاروں کی ایک نشست کے دوران بھارت میں فرانس کے سفیر نے وسترکلا کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ بھارت اور فرانس کے درمیان شراکت داری کی ایک منفرد مثال ہے، جس نے فرانس کی اعلیٰ درجے کی ملبوساتی فن کاری کو بھارت کی صدیوں پرانی کشیدہ کاری کی روایت کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔
شہر سے گاؤں منتقل ہونے کا منفرد فیصلہ
وزیر خزانہ نے بتایا کہ بھارت واپسی کے بعد انہوں نے چنئی کے قریب ضلع تروولّور کے گڈاپکم میں واقع وسترکلا کی ورکشاپ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاریگروں کی ٹیم کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کے دوران معلوم ہوا کہ وسترکلا نے جان بوجھ کر اپنی پہلی چنئی ورکشاپ کو گڈاپکم منتقل کیا، تاکہ نسل در نسل روایتی ہنر کو محفوظ رکھنے والے دیہی علاقوں کے لوگوں کو اعلیٰ معیار کے روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کا پہیہ الٹا گھوم گیا ہو۔ عام طور پر نوجوان روزگار کی تلاش میں گاؤں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں، لیکن یہاں ایک کمپنی نے شہر چھوڑ کر گاؤں میں اپنی سرگرمیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
خشک سالی سے فنِ کشیدہ کاری تک کا سفر
نرملا سیتا رمن نے بتایا کہ وسترکلا کانچی پورم، سری پیرمبدور اور تروولّور کے اس خطے میں واقع ہے جو اکثر خشک سالی سے متاثر رہتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ماضی میں جب بارش نہیں ہوتی تھی تو کھیتی باڑی کا کام رک جاتا تھا۔ ایسے میں کسان ہل چلانے کے بجائے سوئی اور دھاگا اٹھا لیتے تھے اور سوتی و ریشمی کپڑوں پر نہایت خوبصورت کشیدہ کاری کیا کرتے تھے۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پر دیہی باشندے خشک سالی کی مشکلات کا مقابلہ کرتے تھے۔ یہ فن غیر معمولی صبر، باریک بینی اور نظم و ضبط کا تقاضا کرتا ہے، اور یہ تمام خوبیاں خشک علاقوں کے کسانوں میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
ایس پی وشواجیت دیال کو مںجھوے ریت گھاٹ پر غیر قانونی کان کنی اور ریت…
دو بار کی اولمپک تمغہ جیتنے والی پی وی سندھو نے کمیلا سماگولووا کو یکطرفہ…
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 48000 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ آسام میں…
سپر ال نینو الرٹ: 180 سے زائد سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ شدید…
اڈانی احمد آباد مریاتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفشل جرسی جاری کر دی گئی۔ احمد…
پتنجلی یوگ پیٹھ پہنچنے پر سوامی رام دیو جی نے انتہائی احترام اور سادگی کے…