حکومت کے ذریعے فرہام کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی فلیگ شپ اسکیم آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (ABDM) کے تحت ہر دو میں سے ایک ہندوستانی کے پاس اب ABHA ID یا آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹ ہے۔ واضح رہے کہ اس مشن کا مقصد پورے ہندوستان میں صحت کا ریکارڈ، سہولیات اور پیشہ ور افراد کو ڈیجیٹلائز کرکے ایک قومی ڈیجیٹل ہیلتھ ایکو سسٹم بنانا ہے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 76 کروڑ سے زیادہ لوگوں کے پاس ABHA IDs ہیں، جس میں اوڈیشہ اپنی آبادی کے لحاظ سے IDs بنانے میں سب سے آگے ہے، اس کے بعد آندھرا پردیش، ہماچل پردیش اور راجستھان ہیں۔ نیشنل ہیلتھ اتھارٹی(این ایچ اے) کے افسر ہمانشو براد نے بتایا کہ ’’اب تک ہر دو میں سے ایک ہندوستانی نے اپنا آیوشمان بھارت ہیلتھ اکاؤنٹ بنالیا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ اپنی صحت کا ریکارڈ بنانے کے لیے اپنے صحت کے ریکارڈ کو ABHA سے جوڑنا شروع کر سکتے ہیں۔ ABHA پر 51 کروڑ سے زیادہ صحت کے ریکارڈ منسلک کیے گئے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ این ایچ اے ایک اعلیٰ ادارہ ہے جو اے بی ڈی ایم کے نفاذ کو یقینی بناتا ہے۔ اے بی ایچ اے کارڈ میں 14 ہندسوں کا ایک منفرد شناختی نمبر ہوتا ہے جسے ABHA ID کہتے ہیں۔ آئی ڈی رکھنے والے کی پوری طبی تاریخ، مشورے کی تفصیلات اور نسخے ABHA ID کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، جس سے ہسپتالوں کا دورہ کرتے وقت کاغذاتی طور پر صحت کا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔
براد نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’ABHA کا موازنہ ایک بینک اکاؤنٹ سے کیا جاسکتا ہے۔ بینک اکاؤنٹ میں ہم اپنی دولت رکھتے ہیں جب کہ ABHA میں ہم اپنی صحت کا ریکارڈ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ کوئی بھی آپ کی صحت کے ریکارڈ کو آپ کی واضح رضامندی کے بغیر نہیں دیکھ سکتا، جیسا کہ ایک بینک اکاؤنٹ جہاں سے کوئی آپ کے دستخط کے بغیر رقم نہیں نکال سکتا۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ یہ آئی ڈی بنانے کا کام متعدد ذرائع سے کیا جا رہا ہے، جس میں سرفہرست ذریعہ مرکزی حکومت کا کو-وِن پورٹل ہے جس کے بعد آیوشمان بھارت انشورنس اسکیم، وزارت صحت کا غیر متعدی بیماری پروگرام، یوپی حکومت کی ایپ ای-کاوچ اور پرسنل ہیلتھ کیئر ریکارڈ ایپ ایکا کیئر وغیرہ کے ذریعے بھی یہ آئی ڈی بنائی جا سکتی ہے۔
اسکین اور شیئر کے تحت نو کروڑ ٹوکن
وہیں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نو کروڑ سے زیادہ ایسے ٹوکن ’’اسکین اینڈ شیئر‘‘ فیچر کے تحت جاری کیے گئے ہیں جو مریضوں کو او پی ڈی رجسٹریشن کاؤنٹر پر رکھے گئے QR کوڈ کو اسکین کرنے اور فوری رجسٹریشن کے لیے اپنا ABHA پروفائل شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ہمانشو براد نے کہا ’’فی ٹوکن 10 منٹ کی بچت ہوتی ہے اور اس طرح ہسپتال میں مریضوں کے 90 کروڑ منٹ بچائے گئے ہیں۔ یہ سہولت اب 640 اضلاع کے 19,000 ہسپتالوں میں دستیاب ہے۔‘‘
2022 میں اس سہولت کے آغاز کے بعد سے زیادہ تر ٹوکن آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS)، نئی دہلی کے OPD میں بنائے گئے ہیں، اس کے بعد ایمس بھوپال، ایمس اوڈیشہ، ایمس چھتیس گڑھ اور گوتم بدھ نگر، اتر پردیش کے دسٹرکٹ کمبائنڈ ہسپتال میں بنائے گئے ہیں۔ وہیں اب تک اے بی ڈی ایم کے تحت 16,765 اسپتال اور 17,229 صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کو رجسٹر کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…