نئی دہلی : مغربی بنگال سمیت پانچوں ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے سےجاری ہے، ووٹوں کی گنتی کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ عوام نے آئندہ پانچ برس کے لیے کس پارٹی پر اپنا اعتماد ظاہر کیاہے۔ ان ریاستوں میں مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری شامل ہیں، جہاں سیاسی درجہ حرارت کئی دنوں سے عروج پر ہے۔
پہلے پوسٹل بیلٹ کی گنتی کی جائے گی، اس کے بعد ای وی ایم کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ سی ایم ممتا بنرجی کے لیے یہ ایک لٹمس ٹیسٹ سے کم نہیں ہے۔ بی جے پی بھی اس بار پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔ بنگال اپنی 294 اسمبلی سیٹوں کے ساتھ اپنے نئے وزیر اعلیٰ کے طور پر کس کا انتخاب کرے گا اس کے بارے میں فیصلہ 23 اور 29 اپریل کو ڈالے گئے ووٹوں کے ذریعے پہلے ہی بیلٹ بکس میں بند کر دیا گیا ہے۔
مغربی بنگال کی سیاست اس وقت سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہاں اسمبلی کی کل 294 نشستیں ہیں، تاہم 293 سیٹوں پر ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔ دو مرحلوں میں ہونے والے انتخابات میں عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تقریباً 92 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی مسلسل چوتھی بار اقتدار میں واپسی کے لیے پرعزم ہیں، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی پہلی بار مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی کوشش میں ہے۔ بھوانی پور سیٹ پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، جہاں ممتا بنرجی کا مقابلہ بی جے پی کے شوبھندو ادھیکاری سے ہے۔
آسام میں بھی سیاسی مقابلہ کم دلچسپ نہیں ہے، جہاں تمام 126 اسمبلی نشستوں کے لیے 9 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ یہاں بی جے پی، وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں تیسری بار حکومت بنانے کے لیے پراعتماد نظر آ رہی ہے۔ دوسری جانب کانگریس، گورو گوگوئی کی قیادت میں بی جے پی کو سخت ٹکر دے رہی ہے۔ ریاست میں 85 فیصد سے زائد ووٹنگ نے عوامی دلچسپی کو ظاہر کیا ہے۔
جنوبی ہند کی اہم ریاست تمل ناڈو میں 234 نشستوں پر ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوئی، جس میں 85 فیصد سے زیادہ ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے۔ ڈی ایم کے اتحاد، وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی قیادت میں اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے بی جے پی کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ اس بار اداکار وجے کی پارٹی ٹی وی کے کی موجودگی نے مقابلے کو سہ رخی بنا دیا ہے۔
کیرالہ میں 140 اسمبلی نشستوں کے لیے 9 اپریل کو ووٹنگ ہوئی تھی، جہاں 78.27 فیصد ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنارائی وجین تیسری بار اقتدار میں واپسی کے خواہاں ہیں، جبکہ کانگریس کی قیادت میں یو ڈی ایف اتحاد حکومت بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ اسی دن پڈوچیری کی 30 نشستوں کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی، جہاں تقریباً 90 فیصد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔
اب تمام نظریں ووٹوں کی گنتی پر مرکوز ہیں، جو نہ صرف ان ریاستوں کی سیاسی سمت طے کرے گی بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…