قومی

Assam Election Results 2026: آسام میں پیر کی صبح 7 بجے سے ووٹوں کی گنتی، کیا پھر بی جے پی اقتدار میں رہے گی یا کانگریس کرے گی واپسی؟

گوہاٹی: آسام میں اقتدار کی چابی کس کے ہاتھ آئے گی، اس کا فیصلہ اب قریب ہے۔ 4 مئی کی صبح 7 بجے سے ریاست کے تمام کاؤنٹنگ مراکز پر ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے اس کے لیے وسیع انتظامات کیے ہیں تاکہ پورا عمل شفاف اور محفوظ رہے۔ دوپہر تک یہ واضح ہونے کی امید ہے کہ آیا ہمنتا بسوا سرما اپنی کرسی برقرار رکھ پائیں گے یا گورو گوگوئی کی قیادت میں کانگریس کوئی بڑا الٹ پھیر کرے گی۔

الیکشن کمیشن کی تیاریاں

الیکشن کمیشن نے اس بار 35 اضلاع میں مجموعی طور پر 40 کاؤنٹنگ مراکز قائم کیے ہیں۔ بڑے شہروں جیسے گوہاٹی اور ناگون میں ایک سے زیادہ مراکز بنائے گئے ہیں۔ تقریباً 5,981 کاؤنٹنگ افسران اور 2,348 مائیکرو آبزرورز تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ہر مرحلے کی نگرانی ہو سکے۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات

کاؤنٹنگ مراکز اور اسٹرونگ رومز کی حفاظت کے لیے مرکزی مسلح پولیس فورسز اور ریاستی پولیس کی تین سطحی سکیورٹی نافذ کی گئی ہے۔ تمام مراکز سی سی ٹی وی نگرانی میں ہیں، جبکہ ہر حلقے کے لیے خصوصی مبصرین بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

کب ہوئی تھی ووٹنگ؟

آسام کی تمام 126 اسمبلی نشستوں پر اس بار 9 اپریل 2026 کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ 2021 کے تین مرحلوں کے مقابلے میں اس بار سنگل فیز ووٹنگ انتظامیہ کے لیے چیلنج رہی، لیکن ووٹنگ کا تناسب تقریباً 85.96 فیصد رہا، جو عوام کے زبردست جوش کو ظاہر کرتا ہے۔

انتخابی میدان میں کون کہاں؟

اس بار کل 722 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 59 خواتین بھی شامل ہیں۔ اہم جماعتوں کی صورتحال کچھ یوں ہے:

انڈین نیشنل کانگریس نے 99 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے

بھارتیہ جنتا پارٹی نے 90 نشستوں پر مقابلہ کیا

آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے 30 نشستوں پر

این ڈی اے اتحادیوں میں آسوم گنا پریشد نے 26 نشستوں پر جبکہ دیگر اتحادی جماعتوں نے باقی نشستوں پر الیکشن لڑا

دیگر میں عام آدمی پارٹی، آل انڈیا ترنمول کانگریس اور بڑی تعداد میں آزاد امیدوار بھی شامل ہیں

2021 کے نتائج کی جھلک

گزشتہ اسمبلی انتخابات 2021 میں این ڈی اے نے 75 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ کانگریس اتحاد کو 50 نشستیں ملی تھیں۔ اس طرح بی جے پی اتحاد نے مضبوط حکومت قائم کی تھی۔

کیا کہتے ہیں ایگزٹ پول؟

ایگزٹ پولز کے مطابق این ڈی اے (بی جے پی اتحاد) کو 85 سے 100 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جس سے ہمنتا بسوا سرما کی حکومت کی واپسی کے امکانات مضبوط نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس اتحاد کو 25 سے 35 نشستوں تک محدود دکھایا جا رہا ہے، جبکہ دیگر کو 2 سے 5 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔

اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو بی جے پی آسام میں اپنی سیاسی گرفت مزید مضبوط کر لے گی، تاہم کانگریس اور گورو گوگوئی کو امید ہے کہ خاموش ووٹر نتائج بدل سکتے ہیں۔ اب سب کی نظریں صبح 7 بجے شروع ہونے والی ووٹوں کی گنتی پر مرکوز ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Congress’s Counterattack on Regime Change: ’رجیم چینج‘ پر کانگریس کا جوابی حملہ، کہا- ہم فخر سے کہتے ہیں، حکومت بدل کر رہیں گے

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…

1 minute ago

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

14 minutes ago

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…

36 minutes ago

Saudi Arabia Flight Alert: ایئر انڈیا کی 20 اکتوبر تک پروازیں منسوخ، انڈیگو سمیت 4 ایئرلائنز متاثر

سعودی عرب میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے درمیان ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور…

1 hour ago