قومی

Yuva Samvad: ’نوجوانوں کو 18 سال کی عمر میں ووٹ ڈالنے کا حق کانگریس نے دیا‘، راجستھان انٹرنیشنل سینٹر میں نوجوانوں کی آواز گونجی، جولی نے دیا اعتماد

راجستھان اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر ٹیکارام جولی نے راجستھان انٹرنیشنل سینٹر میں منعقدہ ’یوا سنواد‘ پروگرام میں شرکت کی۔ جواہر بال منچ کی جانب سے منعقدہ اس پروگرام میں ہزاروں اسکولی طلبہ اور نوجوانوں نے حصہ لیا۔ جولی نے کانگریس اور نوجوانوں کے درمیان قائم قریبی تعلق کا ایک واقعہ بھی سنایا۔

راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر دھرنے کا واقعہ

جولی نے بتایا کہ سال 2014 میں یو پی ایس سی کے امیدوار اپنی مطالبات کے ساتھ براہِ راست راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر دھرنا دینے پہنچ گئے تھے۔ اس وقت نہ پولیس نے طاقت کا استعمال کیا، نہ پانی کی بوچھاڑ کی گئی اور نہ ہی کسی کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ راہل گاندھی نے ان کی بات سنی اور ان کے مطالبات پر اتفاق کیا۔ جولی نے کہا کہ یہی کانگریس کی روایت ہے، جہاں نوجوانوں کی آواز گھر کے دروازے پر بھی سنی جاتی ہے۔

موجودہ حالات پر سوال

جولی نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج جب نوجوان روزگار اور اپنے مستقبل کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر نکلتے ہیں تو انہیں لاٹھیاں، بیریکیڈ اور ایف آئی آر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرق بالکل واضح ہے، ایک سیاست نوجوانوں کی بات سنتی ہے جبکہ دوسری انہیں دبانے کی کوشش کرتی ہے۔

جمہوریت میں نوجوانوں کی طاقت

حزب اختلاف کے لیڈر نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ سوال پوچھنا ہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نہیں بلکہ ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے نوجوانوں سے بات کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ سخت سے سخت سوالوں کے بھی سیدھے اور واضح جواب دیے جائیں گے۔

راجیو گاندھی کا تاریخی فیصلہ

تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے جولی نے کہا کہ آج 18 سال کی عمر میں ووٹ ڈالنے کا حق نوجوانوں کو کانگریس نے دیا۔ سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے آئین میں ترمیم کرکے حقِ رائے دہی کی کم از کم عمر 21 سال سے کم کرکے 18 سال کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کانگریس نے نوجوانوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ملک کی سمت طے کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

پارلیمنٹ سے سڑک تک نوجوانوں کی آواز

جولی نے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی پارلیمنٹ میں نوجوانوں سے جڑے مسائل، جیسے پیپر لیک، بے روزگاری، اگنی ویر اسکیم، ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس کے معاملات کو سب سے زیادہ اہمیت کے ساتھ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کی آواز پارلیمنٹ میں بلند کی اور حکومت سے براہِ راست جواب طلب کیے۔ جولی نے کہا کہ جب حزب اختلاف کے لیڈر نوجوانوں کے حقوق کی لڑائی پارلیمنٹ کے اندر لڑتا ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ کانگریس کی ترجیحات میں نوجوان سب سے آگے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

SIR Controversy: ایس آئی آر پر این ڈی اے میں پھوٹ کے آثار! بی جے پی کے 3 بڑے اتحادی الیکشن کمیشن کے سامنے، مانگی وضاحت

چراغ پاسوان کی ایل جے پی (رام ولاس)، اپیندر کشواہا کی آر ایل ایم اور…

24 minutes ago

Amit Shah Tribute: وزیر داخلہ امت شاہ کا خراج عقیدت: تیسرے پاتشاہ شری گرو امرداس جی کے جوتی جوت دیوس پر پیش کیا نمن

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سکھ مذہب کے تیسرے گرو، شری گرو امرداس جی…

50 minutes ago

Ishwar Chand Vidyasagar Jayanti: ’ورن پریچے‘ سے ’بیوہ کی دوبارہ شادی‘ تک، ایشور چندر ودیا ساگر کی خدمات کو امت شاہ نے ایسے کیا یاد

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بنگال نشاۃ ثانیہ کے عظیم ستون اور معروف سماجی…

2 hours ago

Virat Kohli: ویسٹ انڈیز سیریز میں بدلے گا وراٹ کوہلی کا بیٹنگ آرڈر؟ ٹیم مینجمنٹ کر سکتی ہے نیا تجربہ

وراٹ  کوہلی کو نمبر 3 سے ہٹانا اگرچہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ وراٹ کوہلی نے…

2 hours ago