قومی

Three Key Oil Supply Routes at Risk: خلیج سے تیل کی سپلائی کے 3 اہم راستے شدید خطرے میں، دنیا میں پھر مچ سکتا ہے کہرام؟ بھارت پر بھی پڑے گا بڑا اثر

نئی دہلی: دنیا بھر میں توانائی کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی متاثر ہے، جبکہ سعودی عرب نے عراقی علاقے سے ہونے والے متعدد ڈرون حملوں کے بعد اپنی خام تیل کی پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے شدید حملے کے بعد حوثی باغی آبنائے باب المندب  پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ تینوں راستے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی تھی، جبکہ سعودی عرب کی پائپ لائن کے ذریعے روزانہ 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کیا جاتا تھا۔ اسی طرح باب المندب کے ذریعے دنیا کی مجموعی سمندری تیل اور گیس تجارت کا تقریباً 5 سے 12 فیصد حصہ گزرتا ہے، جو روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل تیل کے برابر ہے۔

تینوں راستے بند ہوئے تو عالمی سپلائی کا بڑا حصہ متاثر

اگر یہ تینوں راستے مکمل طور پر بند ہو جاتے ہیں تو دنیا کی تقریباً 30 فیصد توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں یورپ، بھارت اور چین جیسے ممالک کو جانے والی توانائی کی سپلائی پر خاصا اثر پڑے گا۔ اگر یہ راستے طویل عرصے تک بند رہے تو عالمی معیشت کو سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی منڈیوں سے آنے والی اشیا مہنگی ہوں گی، جبکہ بھارت کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ خام مال مہنگا ہونے سے مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی، جس سے صارفین کی خریداری کم ہو سکتی ہے اور مہنگائی کے باعث معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔

تیل کی سپلائی میں خلل کا اثر شیئر بازار پر بھی پڑ سکتا ہے۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی بڑھنے کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر ان کے حصص پر پڑے گا۔ ایسی صورتحال میں بھارت سمیت عالمی بازاروں میں مندی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

سعودی پائپ لائن کیوں اہم ہے؟

سعودی عرب کا تیل اس کے مشرقی علاقے سے جزیرہ نمائے عرب کے اندرونی حصے سے ہوتا ہوا مغرب میں ینبع بندرگاہ تک پہنچتا ہے۔ وہاں سے یہ بحیرہ احمر کے راستے ٹینکروں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہ راستہ دنیا کی مجموعی تیل سپلائی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ اس کا عالمی حصہ محدود ہے، لیکن اس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ اس کے ذریعے متعدد ممالک کو تیل کی سپلائی فراہم کی جاتی ہے۔ اس راستے کے بند ہونے سے یورپ کے کئی ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔

بھارت پر اس راستے کی بندش کا اثر نسبتاً کم سنگین ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت پہلے ہی اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ مختلف ممالک اور متبادل راستوں سے پورا کر رہا ہے۔ تاہم، خلیج سے آنے والے تیل کی سپلائی ضرور کم ہو سکتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز پہلے ہی متاثر ہے اور اب ہرمز کو بائی پاس کرنے والا یہ متبادل راستہ بھی بند ہو گیا ہے۔

باب المندب پر حوثیوں کا کنٹرول تشویش کا باعث

یمن کے ساحل پر 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے شدید حملے کے بعد حوثی باغی باب المندب آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور اس کے ذریعے بحیرہ عرب سے جوڑتی ہے۔ حوثیوں کے کنٹرول میں آنے کی صورت میں تقریباً 29 کلومیٹر چوڑے اس آبی راستے کو تہران آبنائے ہرمز جیسی حکمت عملی کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور خلیجی ممالک سے بحر ہند کے راستے ہونے والی توانائی کی برآمدات کو مؤثر انداز میں روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

بھارت کے لیے باب المندب کیوں اہم ہے؟

باب المندب بھارت کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ بھارت خام تیل اور دیگر پیٹروکیمیکل مصنوعات کی درآمد کے ساتھ ساتھ یورپ تک تجارت کے لیے بھی اس آبی راستے پر انحصار کرتا ہے۔ ایندھن، ادویات، مشینری اور دیگر اشیا لے جانے والے بحری جہاز باقاعدگی سے باب المندب سے گزرتے ہوئے نیدرلینڈز کی روٹرڈیم اور فرانس کی مارسیلے جیسی بڑی یورپی بندرگاہوں تک پہنچتے ہیں۔ ایسے میں باب المندب پر کنٹرول بھارت کے لیے تیل کی اہم سپلائی میں مزید خلل پیدا کر سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد خلیجی ممالک سے بھارت آنے والی پٹرولیم سپلائی پہلے ہی خاصی متاثر ہوئی ہے۔

خام تیل کی سپلائی میں بڑی کمی

بھارت سے گزرنے والی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی 2023 میں روزانہ 93 لاکھ بیرل سے کم ہو کر 2025 کی پہلی ششماہی میں تقریباً 42 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی تھی۔ فی الحال خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل ہے۔ اگر سپلائی کے یہ راستے طویل عرصے تک متاثر رہے تو تیل کی قیمت کہاں تک پہنچ سکتی ہے، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کا اثر ایندھن کی قیمتوں سے لے کر مہنگائی، صنعتی پیداوار، تجارت اور عالمی معیشت تک وسیع پیمانے پر پڑ سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

6 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

6 hours ago