قومی

Modi-Xi Jinping Trade Talks: وزیر اعظم مودی اور صدر شی جن پنگ کے درمیان دو طرفہ مذاکرات میں تجارت سے متعلق امور پر ہوسکتی ہے بات چیت

وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ہفتہ کی شام ہونے والی دو طرفہ بات چیت میں کاروبار اور سرمایہ کاری سے متعلق کئی اہم امور زیر بحث آ سکتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم مسئلہ چین کے ساتھ ہندوستان کا مسلسل بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن ہندوستان کے مقابلے چین سے درآمدات کہیں زیادہ ہیں۔ ایسے میں تجارت کو زیادہ متوازن بنانے کی ضرورت پر زور دیے جانے کی توقع ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 میں ہندوستان نے چین کو 19.47 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں۔ ایک سال قبل یہ اعداد و شمار 14.25 ارب ڈالر تھا، یعنی برآمدات میں تقریباً 36.62 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب چین سے ہندوستان کی درآمدات بھی تیزی سے بڑھیں۔ 26-2025 میں یہ 131.63 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ 25-2024 میں درآمدات 113.46 ارب ڈالر تھیں۔

اس کا براہ راست اثر دونوں ممالک کے تجارتی توازن پر پڑا۔ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ 25-2024 کے 99.21 ارب ڈالر سے بڑھ کر 26-2025 میں 112.16 ارب ڈالر ہوگیا۔

چین بنا ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار

ہندوستان اور چین کے درمیان مجموعی اشیائی تجارت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 26-2025 میں دونوں ممالک کے درمیان اشیائی تجارت 18.31 فیصد بڑھ کر 151.10 ارب ڈالر ہوگئی۔ اسی دوران چین نے امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ہندوستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار کا مقام حاصل کر لیا۔

تاہم، بڑھتی ہوئی تجارت اپنے ساتھ ایک بڑا چیلنج بھی لے کر آئی ہے۔ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ گزشتہ چند برسوں میں مسلسل بڑھا ہے۔ 22-2021 میں یہ تقریباً 44 ارب ڈالر تھا، جو 23-2022 میں بڑھ کر 73.3 ارب ڈالر اور 24-2023 میں 83.2 ارب ڈالر ہوگیا۔ اب یہ اعداد و شمار 112 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔

معاملہ صرف چینی اشیا کی خریداری تک محدود نہیں

چین سے ہندوستان ہونے والی درآمدات کو صرف موبائل فون، الیکٹرانکس یا دیگر تیار صارف اشیا کی خریداری کے طور پر دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ چین سے بڑی مقدار میں مشینیں، پرزے، صنعتی خام مال اور سرمایہ جاتی اشیا بھی درآمد کی جاتی ہیں، جو ہندوستانی کمپنیوں کے لیے ضروری ہیں۔ الیکٹرانکس، مشینری، کمپیوٹر اور نامیاتی کیمیکل جیسے شعبے چین سے ہونے والی درآمدات میں بڑی حصہ داری رکھتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان اہم زمروں کا مجموعی درآمدات میں تقریباً 66 فیصد حصہ ہے۔ گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو یعنی جی ٹی آر آئی کے مطابق ہندوستان اپنی الیکٹرانکس درآمدات کا تقریباً 43 فیصد چین سے حاصل کرتا ہے۔ وہیں مشینری اور کمپیوٹر سے متعلق درآمدات میں چین کی حصہ داری تقریباً 40 فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان اشیا کا استعمال صرف ہندوستانی صارفین نہیں کرتے بلکہ ملک کی فیکٹریاں اور مینوفیکچرنگ کمپنیاں بھی ان پر کافی حد تک منحصر ہیں۔

اہم معدنیات کے معاملے میں بھی تشویش

چین پر ہندوستان کا انحصار اہم معدنیات کے معاملے میں بھی نمایاں ہے۔ ہندوستان چھ اہم معدنیات کی اپنی ضرورت کا 40 فیصد سے زیادہ چین سے درآمد کرتا ہے۔ یہ معدنیات قابل تجدید توانائی، برقی گاڑیوں اور دفاع جیسے اسٹریٹجک شعبوں کے لیے اہم ہیں۔ اسی وجہ سے چین سے سپلائی میں کسی بڑی رکاوٹ سے ہندوستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر ضروری خام مال یا صنعتی پرزوں کی فراہمی اچانک متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر پیداوار اور پوری سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے۔ جی ٹی آر آئی نے بھی اس ساختی عدم توازن پر تشویش ظاہر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صاف توانائی، الیکٹرانکس اور دواسازی جیسے شعبوں میں چین سے حاصل ہونے والے خام مال اور ضروری صنعتی اجزا پر انحصار ہندوستان کے لیے سپلائی چین سے متعلق خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔

چین کی نظریں ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی مارکیٹ پر

دوسری جانب چین کی نظریں ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ پر ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ چین اپنی کمپنیوں کے لیے ہندوستان میں سرمایہ کاری کے قوانین میں مزید نرمی کی توقع کر سکتا ہے۔ ہندوستانی مارکیٹ کا وسیع حجم اور تیز رفتار ترقی چینی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Rahul Gandhi and Priyanka Detained: ووٹ چوری کے الزامات پر اپوزیشن کا احتجاج، راہل اور پرینکا گاندھی کو پولیس نے حراست میں لیا

ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا بڑا احتجاج، 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے…

1 hour ago

Kiren Rijiju Targets Rahul Gandhi: ’اب ڈرامہ بند کیجیے…‘، کرن رجیجو کا راہل گاندھی پر سخت حملہ، پی ایم مودی سے سیکھنے کا مشورہ

راہل گاندھی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم…

2 hours ago

Adani Swirl Transit Hotel: نوی ممبئی ایئرپورٹ پر اڈانی گروپ نے شروع کیا Swirl ٹرانزٹ ہوٹل، اب ایئرپورٹ کے اندر ہی آرام اور کام کی سہولت

ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے…

3 hours ago