قومی

Taratala Shed Collapse: کولکاتا میں زیر تعمیر گودام کی چھت منہدم، 3 افراد ہلاک،21 کو بحفاظت نکالا گیا، 12 سے 18 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ

مغربی بنگال کے کولکاتا کے تاراتلا علاقے میں زیرِ تعمیر ایک نجی گودام کی چھت منہدم ہونے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ 21 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اب بھی تقریباً 12 سے 18 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ حادثے کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی اور بچاؤ کارروائیاں جاری ہیں۔ مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور بتایا کہ امدادی کارروائیوں میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، فوج، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، پولیس اور محکمہ فائر بریگیڈ مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 21 افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے جبکہ تین افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایس ایس کے ایم اسپتال میں زخمیوں کا علاج جاری ہے اور ملبے تلے دبے افراد سے رابطہ قائم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

امدادی کارروائیاں جاری، تحقیقات کا مطالبہ

یہ حادثہ تاراتلا کے بی/2 ٹرانسپورٹ ڈپو روڈ پر واقع ایک زیرِ تعمیر نجی گودام میں پیش آیا، جس کے بعد متعدد سرکاری اداروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ شیاما پرساد مکھرجی پورٹ اتھارٹی (ایس ایم پی) کے چیف پبلک ریلیشنز افسر سنجے کمار مکھرجی نے بتایا کہ ملبہ ہٹانے اور امدادی کاموں کے لیے کرینیں، گیس کٹر، فائر بریگیڈ کی گاڑیاں، ایمبولینسیں اور طبی ٹیمیں موقع پر تعینات کر دی گئی ہیں۔ پورٹ اتھارٹی کے سینئر افسران بھی جائے حادثہ پر موجود ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر سکانتا مجمدار نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو محفوظ نکالنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سابقہ ترنمول کانگریس حکومت کے دور میں کئی غیرقانونی تعمیرات کی اجازت دی گئی تھی اور موجودہ حکومت اس عمارت سے متعلق تمام منظوریوں کی جانچ کرے گی۔

کانگریس نے مکمل تحقیقات کا کیا مطالبہ

دوسری جانب مغربی بنگال کانگریس کے صدر شبھانکر سرکار نے کہا کہ حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس بات کی مکمل تحقیقات کرے کہ غیرقانونی تعمیر کی اجازت کیسے دی گئی اور نگرانی میں کوتاہی کیوں برتی گئی۔ سی پی آئی (ایم) کے رہنما فیاض احمد خان نے بھی حکام پر غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مقامی رہائشیوں نے پہلے ہی متعدد مرتبہ غیرقانونی تعمیرات کے بارے میں شکایات کی تھیں، لیکن متعلقہ اداروں نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

49 minutes ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

1 hour ago

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

11 hours ago