فائل فوٹو۔
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ جو پاکستانی گولہ باری کی وجہ سے اپنے گھر چھوڑ کر نکل گئے تھے، وہ اب واپس اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ہند-پاک کشیدگی کے درمیان خاص طور پر پونچھ کے علاقے میں سب سے زیادہ گولہ باری ہوئی تھی، جس کی وجہ سے وہاں سے رہائشیوں کو سخت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے، لہٰذا اب متاثرہ علاقوں کے رہائشی اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔ انھوں نے پاکستانی فوج کے جاری پروپیگنڈے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک اسے آگے بڑھاتا رہے گا لیکن حقیقت دنیا کو معلوم ہے۔
سرحدی باشندوں سے کی عمر عبد اللہ نے اپیل
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’انھیں (سرحدی باشندوں کو) اب اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پونچھ شہر کا 80 سے 90 فیصد حصہ خالی ہے۔ جب گولہ باری ہو رہی تھی تو وہ اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اب جب کہ گولہ باری بند ہو گئی ہے، وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکتے ہیں۔‘‘ اپنی کابینہ کے ساتھی جاوید رانا، مشیر ناصر اسلم وانی اور ایم ایل اے اعجاز خان کے ساتھ عمر عبداللہ نے پیر کو پونچھ اور سورنکوٹ کے علاقوں میں پاکستانی گولہ باری سے متاثر ہونے والوں سے رابطہ کیا۔ انھوں نے خطے میں بنکرز کے قیام کی ضرورت بھی زور دیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایل او سی پر جاری حالیہ کشیدگی کو ’’جنگ جیسی صورت حال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’پچھلے تین چار دنوں سے جموں و کشمیر میں ایک قسم کی جنگ کا ماحول تھا۔ جتنے بھی علاقے اس درمیان متاثر ہوئے، ان میں سب سے زیادہ متاثر پونچھ ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی گولے قصبوں کے عین وسط میں گرے ہیں اور شدید بمباری ہوئی ہے۔
مقامی لوگوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کا حوصلہ بڑھایا
اس دوران عمر عبداللہ نے مقامی سول سوسائٹی کے ارکان سے ملاقات کی اور پونچھ کے لوگوں کی مشکلات کے باوجود فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے تعریف کی۔ انھوں نے کہا ’’ہم نے 13 قیمتی جانیں ضائع کیں۔ آج یہاں آنے کا میرا مقصد کم از کم ان گھروں تک پہنچنا ہے جہاں سانحہ پیش آیا۔ مشکل حالات کے باوجود انھوں نے ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان اتحاد کی میراث کو برقرار رکھا۔‘‘
عمر عبداللہ نے مستقبل میں ہونے والے جانی نقصان کو روکنے کے لیے ابھی سے تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا ’’اگر ایسی صورت حال دوبارہ پیدا ہوتی ہے، تو ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس طرح جانوں کا نقصان نہ ہو۔ ہمیں سول سوسائٹی سے کئی تعمیری تجاویز موصول ہوئی ہیں اور ہم ان پر عمل درآمد پر کام جلد شروع کر دیں گے۔‘‘
جلد ہی معاوضہ دینے کا کیا اعلان
عمر عبداللہ نے کہا کہ تمام متاثرہ اضلاع پونچھ، راجوری، جموں، بارہمولہ، کپواڑہ اور باندی پورہ میں انتظامیہ کو نقصان کا جائزہ لینے اور معاوضے کے لیے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا ’’اب تک ہماری ترجیح جان بچانا رہی ہے، لیکن اب جب کہ جنگ بندی ہو چکی ہے، جائزے بھی شروع ہو جائیں گے اور ریلیف مل جائے گی۔ ہم معاوضہ دیں گے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ اہلکاروں نے شیلنگ کے دوران اپنی پوسٹیں چھوڑ دی تھیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ایک بھی ڈی سی (ڈپٹی کمشنر) نے اپنا اسٹیشن نہیں چھوڑا۔ میڈیا میں کچھ لوگوں کی طرف سے پھیلائی جانے والی یہ افواہیں افسوس ناک اور غلط ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…