قومی

Assam Election Results: آسام میں بی جے پی کی تاریخی ہیٹ ٹرک، وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے جیت کو ترقی اور ناری شکتی کے حق میں عوامی مینڈیٹ قرار دیا

گوہاٹی: آسام اسمبلی انتخابات 2026 کے ابتدائی رجحانات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والا اتحاد تیسری بار اقتدار میں واپسی کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاست کی 126 رکنی اسمبلی میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) واضح اکثریت حاصل کرتا نظر آ رہا ہے، جس کے بعد بی جے پی کے لیے یہ ایک تاریخی ہیٹ ٹرک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ترقی، خواتین کی طاقت اور ”وکست آسام“ کے وژن کے حق میں دیا گیا مینڈیٹ قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں کہا کہ آسام کے عوام نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔

سرما نے کہا کہ یہ کامیابی پارٹی کارکنان کی انتھک محنت، قیادت کی مضبوط حکمت عملی اور عوام کے تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پارٹی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے عزم اور رہنمائی کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا، ”یہ جیت ترقی، ناری شکتی، شناخت اور ایک ترقی یافتہ آسام کے خواب کے حق میں عوامی فیصلہ ہے۔ براک وادی سے لے کر برہم پتر تک اور بالائی آسام سے نچلے علاقوں تک عوام نے ترقی اور خودی کے بیانیے کو مضبوطی سے اپنایا ہے“۔ انہوں نے اس کامیابی کو عوام کے اعتماد کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ریاست کو ملک کی سرفہرست پانچ ریاستوں میں شامل کرنے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی۔

اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ایک مختصر پیغام میں ”سنچری کے ساتھ ہیٹ ٹرک“ کا جملہ بھی لکھا، جس سے ان کی فتح کے حوالے سے پراعتماد رویہ ظاہر ہوا۔ انتخابی کمیشن کے جاری کردہ رجحانات کے مطابق بی جے پی 82 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جن میں سے 51 پر وہ کامیابی حاصل کر چکی ہے جبکہ باقی نشستوں پر سبقت برقرار ہے۔ این ڈی اے کے دیگر اتحادیوں میں آسام گن پریشد (اے جی پی) 10 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ (بی پی ایف) بھی 10 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ ان دونوں جماعتوں کی کارکردگی نے مجموعی طور پر اتحاد کی پوزیشن کو مزید مضبوط کیا ہے۔

دوسری جانب کانگریس کو ان انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ پارٹی 19 نشستوں پر آگے ہے، جن میں سے صرف ایک نشست پر اسے کامیابی ملی ہے، جبکہ باقی پر وہ سبقت لیے ہوئے ہے۔ یہ نتائج ریاست میں سیاسی طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آسام میں بی جے پی کی مسلسل تیسری کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے عوام نے ترقیاتی ایجنڈے اور مستحکم قیادت کو ترجیح دی ہے۔ آنے والے دنوں میں حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ریاست کی سیاست کا رخ مزید واضح ہو جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Banks to remain open on Sunday: تین دن کی  بینک ہڑتال سے پہلے ضروری کام نمٹا لیں یوزر، 28 ستمبر سے کئی خدمات متاثر ہونے کا امکان

یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…

3 minutes ago

Kedarnath Dham: کیدارناتھ میں صرف 5 ماہ میں 50 ٹن سے زیادہ کچرا جمع، پچھلے پورے سیزن سے ڈھائی گنا زیادہ

اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…

30 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

4 hours ago