قومی

Prime Minister Narendra Modi : یہ آئرن مین سردار پٹیل کا بھارت ہے، جو اپنی سلامتی اور وقار سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا: وزیرِ اعظم مودی

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150ویں جینتی کے موقع پر گجرات کے ایکتا نگر میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ آئرن مین سردار پٹیل کا بھارت ہے، جو اپنی سلامتی اور وقار سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ملک کے لیے فخر اور تحریک کا لمحہ ہے۔ ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ایسے کاموں کو فروغ دیں گے جو ملک کی یکجہتی کو مضبوط بنائیں۔ وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ سردار پٹیل کی 150ویں جینتی ایک تاریخی موقع ہے اور ایکتا نگر میں منعقد یہ عظیم تقریب ایک یادگار لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’آج پورے بھارت میں ’رن فار یونٹی‘ کے تحت کروڑوں لوگ یکجہتی کے جذبے کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔ ہم نئے بھارت کی اجتماعی قوت کو محسوس کر رہے ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ سردار پٹیل کی جینتی اب قدرتی طور پر قومی یکجہتی کے عظیم تہوار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جس طرح پورا ملک 15 اگست کو یومِ آزادی اور 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ کے طور پر مناتا ہے، اسی طرح ’راشٹریہ ایکتا دیوس‘ بھی اب ہمارے لیے فخر اور حوصلے کا دن بن چکا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ سردار پٹیل ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ تاریخ لکھنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ تاریخ بنانے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ یہی جذبہ ان کی پوری زندگی میں دکھائی دیتا ہے۔ آزادی کے بعد جب ملک کی 562 ریاستوں کو ایک جھنڈے تلے لانے کا ناممکن سا کام تھا، تب سردار پٹیل نے اسے ممکن کر دکھایا۔ ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کا نظریہ ان کے لیے سب سے اہم تھا۔

مودی نے عوام سے اپیل کی کہ ہر وہ بات یا عمل جو ملک کی یکجہتی کو کمزور کرے، ہر شہری کو اس سے دور رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ہمارا قومی فریضہ ہے، یہی سردار صاحب کو حقیقی خراجِ عقیدت ہے، اور یہی آج کے ’ایکتا دیوس‘ کا پیغام اور عہد ہے‘‘۔ وزیرِ اعظم نے جموں و کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سردار پٹیل نے ہمیشہ ملک کی خودمختاری کو اولین ترجیح دی، لیکن ان کے انتقال کے بعد کے برسوں میں حکومتوں نے اس معاملے میں وہ سنجیدگی نہیں دکھائی۔ ’’کشمیر میں ہوئی غلطیاں، شمال مشرق میں پیدا ہوئی مشکلات اور ملک بھر میں پھیلا نکسلواد ، یہ سب ملک کی خودمختاری کے لیے براہِ راست چیلنج تھے، لیکن اس وقت کی حکومتوں نے سردار پٹیل کی پالیسیوں پر چلنے کے بجائے کمزور رویہ اپنایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ملک نے اس کی قیمت خون خرابے اور بدامنی کی شکل میں چکائی‘‘۔

انہوں نے کہا کہ سردار پٹیل چاہتے تھے کہ جس طرح باقی ریاستوں کا بھارت میں انضمام ہوا، ویسے ہی کشمیر کا بھی ہو، مگر جواہر لعل نہرو نے ان کی خواہش پوری نہیں ہونے دی۔ ’’کشمیر کو الگ آئین اور الگ نشان دے کر تقسیم کر دیا گیا۔ کانگریس کی اس تاریخی غلطی نے ملک کو دہائیوں تک جلا کر رکھا‘‘۔ وزیرِ اعظم مودی نے مزید کہا کہ کانگریس کی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر کا ایک حصہ پاکستان کے قبضے میں چلا گیا، جہاں سے دہشت گردی کو فروغ ملا۔ ’’ریاستی پشت پناہی میں چلنے والی دہشت گردی نے کشمیر ہی نہیں، پورے ملک کو بھاری نقصان پہنچایا، لیکن پھر بھی کانگریس ہمیشہ دہشت گردی کے آگے جھکتی رہی‘‘۔

مودی نے کہا کہ آج بھارت نے پہلی بار اس خطرے کے خلاف فیصلہ کن لڑائی لڑنے کا عزم کیا ہے۔ ’’میں نے لال قلعے سے ’ڈیموگرافی مشن‘ کا اعلان کیا تھا۔ اب ہم نے طے کیا ہے کہ بھارت میں رہنے والے ہر گھس پیٹھئے کو ملک سے نکال کر ہی رہیں گے‘‘۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا، ’’یہ سردار پٹیل کا بھارت ہے۔ یہ اپنے وقار، اتحاد اور سلامتی کے معاملے میں کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہی ہمارا عہد ہے، یہی ہمارا فخر ہے‘‘۔

 

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

JAISHANKAR SLAMS PAKISTAN AT UN: ’ایک دہشت گرد ملک مجھ سے یہ سوال پوچھ رہا ہے…‘ UNGA میں ایس جے شنکر کا پاکستان پر دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…

10 minutes ago

Sikkim Rimbi Landslide: سکّم میں بارش کا قہر، ملبے کی زد میں گھر اور سڑکیں، 32 مکانات اب بھی خطرے میں

گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…

12 minutes ago

CEC Gyanesh Kumar Dispute: انتخابی کمیشن کے وہ 2 افسر جنہوں نے فیصلوں پر اٹھائے سوال، جانیے سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی پوری پروفائل

انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…

59 minutes ago