قومی

Baisaran Valley: پہلگام کے قریب بیسرن وادی میں ہیں یہ تین دلکش مقامات، ایل او سی کے قریب ہونے کی وجہ سے سکیورٹی کے اعتبار سے حساس ہیں یہ جگہیں

نئی دہلی: جموں و کشمیر کے معروف سیاحتی مقام بیسرن وادی میں گزشتہ سال ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد اگرچہ یہ علاقہ تاحال بند ہے، تاہم اس کے آس پاس موجود کئی خوبصورت سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ یہ مقامات اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول (LOC) کے قریب ہونے کی وجہ سے سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی نہایت حساس سمجھے جاتے ہیں۔

ارو وادی — فطرت کا پُرسکون شاہکار

ارو وادی کشمیر کے حسین ترین اور پُرسکون مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ سرسبز میدان، چیڑ کے درختوں سے ڈھکی پہاڑیاں اور دھند میں لپٹی فضا اس جگہ کو خوابناک بنا دیتی ہے۔ یہ مقام نہ صرف سیاحوں بلکہ فنکاروں اور فوٹوگرافرز میں بھی بے حد مقبول ہے۔ یہ وادی پہلگام سے تقریباً 13 کلومیٹر اور بیسرن وادی سے قریب 17 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ساتھ ہی یہ اوویرا-ارو وائلڈ لائف سینچری کا حصہ ہے اور کولہوئی گلیشیئر جیسے مشہور ٹریکنگ راستوں کا بیس کیمپ بھی مانا جاتا ہے۔ ایل او سی یہاں سے تقریباً 80 کلومیٹر دور ہے، اسی لیے یہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

بیتاب وادی — فلمی دنیا کا پسندیدہ مقام

اننت ناگ ضلع میں واقع بیتاب وادی اپنی دلکش خوبصورتی اور فلمی شوٹنگ کے لیے مشہور ہے۔ اس کا پرانا نام ہاجن وادی تھا، لیکن مشہور ہندی فلم ’’بیتاب‘‘ کی شوٹنگ کے بعد اس کا نام تبدیل ہو گیا۔ یہ وادی پہلگام سے تقریباً 15 کلومیٹر دور ہے اور امرناتھ یاترا کے اہم راستوں میں شامل ہے۔ گھنے جنگلات اور پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے یہاں نگرانی مشکل ہوتی ہے، اسی لیے بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورسز تعینات رہتی ہیں۔

چندن واڑی — یاترا کا آغاز، سکیورٹی کا مرکز

چندن واڑی پہلگام سے تقریباً 16 کلومیٹر دور واقع ہے اور امرناتھ یاترا کا ابتدائی مقام ہونے کی وجہ سے مذہبی اور سیاحتی دونوں لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔ برف پوش پہاڑوں اور دلکش مناظر کی وجہ سے یہ مقام سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ مقام ایل او سی سے محض 18 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جس کی وجہ سے یہاں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

سکیورٹی اور سیاحت کا نازک توازن

بیسرن وادی کے اطراف موجود یہ تمام مقامات جہاں قدرتی حسن سے مالا مال ہیں، وہیں جغرافیائی لحاظ سے حساس بھی ہیں۔ ایل او سی کے قریب ہونے کے سبب یہاں مسلسل نگرانی، فوجی تعیناتی اور حفاظتی اقدامات ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، یہ علاقے کشمیر کی سیاحت کا اہم حصہ ہیں اور ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

3 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

4 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

5 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

5 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

6 hours ago