نئی دہلی : آج کی مصروف اور تیز رفتار زندگی میں سر درد ایک عام مسئلہ بن چکا ہے، لیکن ہر سر درد معمولی نہیں ہوتا۔ کچھ افراد کو بار بار شدید درد، روشنی اور آواز سے حساسیت، متلی یا کمزوری جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے، جسے مائیگرین کہا جاتا ہے۔ یہ صرف سر میں درد کی کیفیت نہیں بلکہ اعصابی نظام سے جڑا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ماہرین کے مطابق مائیگرین کی شدت کئی مرتبہ روزمرہ کی عادات سے بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ کھانے پینے میں بے احتیاطی، نیند کی کمی، ذہنی دباؤ، جسم میں پانی کی کمی اور طرز زندگی کی بعض عادات کچھ افراد میں مائیگرین کے دورے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اسی لیے مائیگرین سے متاثرہ افراد کو اپنی روزمرہ زندگی میں کچھ احتیاطیں برتنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں وہ 5 غلطیاں کون سی ہیں جو مائیگرین کے دوران تکلیف بڑھا سکتی ہیں۔
جسم میں پانی کی کمی
مائیگرین کے دوران جسم میں پانی کی کمی درد کو بڑھانے والے عوامل میں شامل ہو سکتی ہے۔ جب جسم کو مناسب مقدار میں پانی نہیں ملتا تو تھکن، چکر آنا اور سر میں بھاری پن جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ پانی جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور خلیوں کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے دن بھر وقفے وقفے سے پانی پیتے رہنا ضروری ہے۔ ناریل پانی، سوپ اور پانی سے بھرپور پھل بھی جسم میں سیال کی کمی پوری کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
نیند کے معاملے میں لاپرواہی
مائیگرین اور نیند کے درمیان گہرا تعلق سمجھا جاتا ہے۔ کم سونا یا روزانہ مختلف اوقات میں سونا جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے بعض افراد میں مائیگرین کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ مناسب نیند جسم اور دماغ کو آرام فراہم کرتی ہے۔ کوشش کریں کہ روزانہ ایک مقررہ وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت بنائیں۔ عام طور پر بالغ افراد کے لیے 7 سے 9 گھنٹے کی نیند مفید سمجھی جاتی ہے۔
چائے، کافی یا شراب کا زیادہ استعمال
کئی افراد سر درد کے دوران چائے یا کافی کا سہارا لیتے ہیں، لیکن کیفین کا ضرورت سے زیادہ استعمال بعض لوگوں میں مائیگرین کو بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح شراب بھی کئی افراد کے لیے مائیگرین کا محرک بن سکتی ہے۔ ان چیزوں کا زیادہ استعمال پانی کی کمی، نیند میں خلل اور اعصابی نظام پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم ہر شخص میں اثر مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کون سی چیز آپ کے مائیگرین کو متحرک کرتی ہے۔
طویل وقت تک اسکرین دیکھنا
موبائل، کمپیوٹر اور ٹی وی کا طویل استعمال آنکھوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور بعض افراد میں سر درد بڑھا سکتا ہے۔ مائیگرین کے دوران تیز روشنی اور اسکرین کی چمک بھی تکلیف بڑھا سکتی ہے۔ ایسے میں اسکرین کی روشنی کم رکھنا، وقفے وقفے سے آنکھوں کو آرام دینا اور کچھ وقت پرسکون ماحول میں گزارنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
وقت پر کھانا نہ کھانا
مائیگرین سے متاثرہ افراد کے لیے کھانے میں باقاعدگی بھی اہم ہے۔ طویل عرصے تک خالی پیٹ رہنا یا کھانے کے معمول میں اچانک تبدیلی بعض افراد میں مائیگرین کو متحرک کر سکتی ہے۔ جسم کو مناسب توانائی فراہم کرنے کے لیے متوازن غذا لینا ضروری ہے۔ خوراک میں پھل، ہری سبزیاں، پروٹین اور ضروری غذائی اجزا شامل کریں۔ بہت زیادہ تلی ہوئی، انتہائی مصالحے دار یا ایسی غذاؤں سے پرہیز کرنا بہتر ہے جو ذاتی طور پر آپ کے لیے مائیگرین کا محرک ثابت ہوتی ہوں۔اگر مائیگرین بار بار ہو، معمول سے زیادہ شدید ہو یا اس کی علامات میں واضح تبدیلی آئے تو خود تشخیص کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…