بین الاقوامی

Ebola Outbreak Cases: بے قابو ہوتا جا رہا ہے ایبولا وائرس کا قہر، کانگو میں اب تک 1800 سے زائد اموات، بچوں پر منڈلا رہا ہے خطرہ

افریقی ملک جمہوری جمہوریہ کانگو (DRC) سے ایک انتہائی تشویشناک خبر سامنے آ رہی ہے۔ یہاں ایبولا وائرس نے ایک بار پھر خطرناک شکل اختیار کر لی ہے، جس کے باعث عام لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ محکمہ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ایبولا کے مجموعی طور پر 4053 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ اس خطرناک بیماری کے باعث اب تک 1850 افراد جان گنوا چکے ہیں۔

مشرقی علاقوں میں حالات بے قابو

اس وقت تقریباً 694 مریض اسپتالوں اور آئسولیشن مراکز میں زیر علاج ہیں، جبکہ تقریباً 793 افراد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ تاہم مشرقی ڈی آر سی میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین نظر آ رہی ہے، جہاں حالات مسلسل قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔

معصوم بچوں پر ٹوٹا ایبولا کا قہر

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (UNICEF) نے ایبولا کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف کیا ہے۔ یونیسیف کے مطابق اس جان لیوا بیماری سے مرنے والوں میں 330 بچے بھی شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سامنے آنے والے مجموعی کیسز میں بچوں کی تعداد تقریباً ایک چوتھائی ہے، لیکن اموات میں ان کی شرح تقریباً ایک تہائی ہے۔ خاص طور پر 5 سال سے کم عمر بچوں پر اس بیماری کا سب سے زیادہ خطرناک اثر پڑا ہے۔ ان بچوں میں بالغ افراد کے مقابلے موت کا خطرہ دو گنا سے بھی زیادہ بتایا جا رہا ہے۔

خوف کے باعث صحت کی خدمات متاثر

ایبولا کے خوف نے لوگوں میں ایسی دہشت پیدا کر دی ہے کہ کئی خاندان اپنے بیمار بچوں کو اسپتال لے جانے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ یونیسیف کے ڈی آر سی نمائندے جان ایگبور نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وبا کے باعث وہاں کا پورا طبی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔اسپتال جانے کے خوف کی وجہ سے بچوں کی معمول کی ویکسی نیشن، حاملہ خواتین کی دیکھ بھال اور دیگر ضروری طبی سہولیات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ خدشہ ہے کہ ملیریا اور ڈائریا جیسی عام اور قابلِ علاج بیماریاں بھی اب بچوں کی جان کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔

ڈاکٹروں نے جاری کی سنگین وارننگ

بین الاقوامی طبی تنظیم میڈیسنز سانس فرنٹیئرز (Doctors Without Borders) نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وارننگ جاری کی ہے۔ تنظیم کے مطابق مشرقی ڈی آر سی میں ایبولا جس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس کی مثال پہلے دیکھنے کو نہیں ملی اور فی الحال اس کے رکنے کے بھی کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔اسپتالوں میں بستروں کی شدید کمی، ڈاکٹروں اور طبی عملے پر بڑھتا ذہنی دباؤ اور مقامی آبادی میں پھیلا خوف اس وبا کو مزید خطرناک بنا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر طبی سہولیات، ویکسی نیشن اور متاثرہ علاقوں میں صحت کے نظام کو مضبوط نہیں کیا گیا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

3 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

4 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

5 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

6 hours ago