قومی

MK Stalin on Dhankhar: ’’گورنر کے اختیارات کو محدود کرنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے نے ’جمہوریت مخالف قوتوں‘ کو ہلا کر رکھ دیا ہے‘‘، ایم کے اسٹالن نے نائب صدر دھنکھر پر سادھا نشانہ

تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے جمعہ کے روز کہا کہ گورنروں کے بارے میں سپریم کورٹ کے ایک خوش آئند اصلاح پر مبنی فیصلے نے بہت سی ’’جمہوریت مخالف قوتوں‘‘ کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ نے حالاں کہ نائب صدر جگدیپ دھنکھر کا نام نہیں لیا، لیکن ان کا یہ بیان سپریم کورٹ کے فیصلے پر دھنکھر کے بیان کے پس منظر میں ہی آیا ہے۔

اسٹالن نے معروف صحافی راج دیپ سردیسائی کے ذریعے شیئر کردہ ٹائمس آف انڈیا کے اداریے کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے یہ بات کہی، جس میں نائب صدر جمہوریہ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ری ٹویٹ کرتے ہوئے اسٹالن نے لکھا ’’ہمیں اپنے آئین کو اپنائے ہوئے 75 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ موجودہ بدحالی آئینی دفاتر بشمول گورنرز، نائب صدر اور حتیٰ کہ صدر تک کو سیاسی بنانے اور اپوزیشن کی حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرنے کے سبب پیدا ہوئی ہے۔‘‘

کوئی کسی بھی عہدے پر ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا: اسٹالن

انھوں نے مزید کہا ’’جمہوریت میں حکومتیں منتخب نمائندوں کے ذریعے چلائی جاتی ہیں نہ کہ رسمی تقرریوں کے ذریعے۔ کوئی بھی خواہ کتنا ہی اونچے عہدے پر ہو، قانون سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ ہماری معزز سپریم کورٹ نے بھی اسی کی نشان دہی کی ہے اور اس کا تاریخی فیصلہ اسی کی طرف ایک قدم ہے۔ لہٰذا یہ بات قابل فہم ہے کہ اس خوش آئند کورس کی اصلاح نے بہت سی جمہوریت مخالف قوتوں کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ وقت کی ضرورت اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس ری سیٹ کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ نافذ کیا جائے۔‘‘

اسٹالن کا یہ بیان اس کے ایک دن بعد آیا جب جگدیپ دھنکر نے عدلیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ صدر کو فیصلے لینے کے لیے ایک مقررہ وقت کا پابند بنا کر عدلیہ ’’سپر پارلیمنٹ‘‘ کے طور کر رہی ہے اور ’’جمہوری قوتوں پر جوہری میزائل‘‘ فائر کر رہی ہے۔ دھنکھر کے عدلیہ کے خلاف یہ سخت الفاظ راجیہ سبھا کے انٹرنز سے ان کے خطاب کے دوران سامنے آئے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ہمارے جج ’’سپر پارلیمنٹ‘‘ کی طرح کام کر رہے ہیں اور ججز کے پاس دفعہ 142 ایسا ’’جوہری میزائل‘‘ ہے جو انھیں جمہوری قوتوں کے خلاف استعمال کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Bihar MLC Election: پی کے کی انٹری اور اننت سنگھ کی بغاوت، بہار قانون ساز کونسل کی 8 نشستوں پر انتخابات سے پہلے سیاسی ہلچل تیز

پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی نے تمام 8 نشستوں پر امیدوار اتارے ہیں، پٹنہ…

10 minutes ago

Congress’s Counterattack on Regime Change: ’رجیم چینج‘ پر کانگریس کا جوابی حملہ، کہا- ہم فخر سے کہتے ہیں، حکومت بدل کر رہیں گے

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پون کھیڑا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ’رجیم چینج‘…

1 hour ago

Analysts Optimistic About Jio Platforms: جیو پلیٹ فارمز کے آئی پی او پر تجزیہ کار خوش، لسٹنگ پر 15-20فیصد اضافے کی توقع

ایمکے ریسرچ نے شرح نمو کے مقابلے میں مناسب قیمت کو دیکھتے ہوئے ’ سبسکرائب…

1 hour ago

Abhijit Dipke in Custody: ’لہرا دو ترنگا‘ مارچ سے پہلے ابھیجیت دیپکے حراست میں، کناٹ پلیس جانے کی کر رہے تھے کوشش

ترنگا مارچ سے پہلے پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو دہلی پولیس نے حراست میں…

2 hours ago