قومی

Hand-pulled rickshaw an inhuman practice: ’’رکشا کھینچنا شوق نہیں، مجبوری ہے‘‘— سپریم کورٹ نے انسانی عظمت اور سماجی انصاف پر اٹھائے سوالات

سپریم کورٹ نے ہاتھ سے رکشا کھینچنے کو ایک ’’غیر انسانی رواج‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پسند کا پیشہ نہیں، بلکہ مجبوری ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ ایسے رواج بھارت میں انسانی عظمت کے تصور اور آئینی سماجی و اقتصادی انصاف کے وعدے کو کمزور کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی سماعت اور تبصرہ

ٹی این گودا ورمن معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے نشاندہی کی کہ 45 سال قبل عدالت کے فیصلے کے باوجود مہاراشٹر کے ماتھیران شہر میں آج بھی ایک انسان کے ذریعہ دوسرے انسان کھینچنے کی روایت برقرار ہے، جو کہ نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم آئینی برابری کے وعدے کے پابند ہیں۔ بدقسمتی سے اس کا جواب نہیں میں ہے۔

رکشا بند ہو، مگر روزگار بھی محفوظ رہے

چیف جسٹس نے کہا کہ 78 سال بعد بھی اگر یہ غیر انسانی روایت قائم ہے تو یہ قوم کے خود سے کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ عمل فوری طور پر بند کیا جانا چاہیے، لیکن ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے متبادل روزگار کی اسکیم بھی ضروری ہے جو اس پر انحصار کرتے ہیں۔

ای-رکشا اور بازآبادکاری

چیف جسٹس نے کہا کہ 1980 کے بعد ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور آج ماحول دوست ای-رکشا دستیاب ہیں۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ ہاتھ سے رکشا چلانے والوں کی بازآبادکاری کے لیے جامع اور عملی اسکیم تیار کرے تاکہ ان کا ذریعہ معاش متاثر نہ ہو۔

مہاراشٹر حکومت پر ناراضگی

سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے افسر دباؤ میں آ سکتے ہیں، لیکن عدلیہ نہیں۔ عدالت نے کہا کہ ماتھیران چونکہ ایک ہِل اسٹیشن ہے جہاں موٹر گاڑیاں ممنوع ہیں، اس لیے وہاں پرانی روایت جاری ہے۔ لیکن اب وقت آ چکا ہے کہ اس میں تبدیلی لائی جائے۔

کیوڑیا ماڈل کا حوالہ

عدالت نے گجرات کے کیوڑیا میں رائج ای-رکشا ماڈل کی مثال دی، جہاں قبائلی خواتین روزانہ ای-رکشا کرایے پر لے کر چلاتی ہیں۔ یہ ایک قابل تقلید ماڈل ہے۔

گزشتہ عدالتی اقدامات

جنوری 2024: عدالت نے ہدایت دی کہ ای-رکشا صرف اُن افراد کو دیے جائیں جو ہاتھ رکشا کھینچتے تھے اور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔

اپریل 2024: عدالت نے ماتھیران میں ای-رکشا کی تعداد 20 تک محدود کرنے کا حکم دیا۔

نومبر 2024: عدالت نے لائسنسنگ میں بدعنوانی پر افسروں کو سخت سرزنش کی اور کہا کہ لائسنس صرف اصل رکشا کھینچنے والوں کو دیے جائیں۔

فروری 2025: عدالت نے مہاراشٹر حکومت کو دو ہفتوں کے اندر شفاف اور غیر جانبدار اسکیم پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت کا واضح پیغام

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ انسانی عظمت اور سماجی انصاف محض نعرے نہیں، بلکہ عملی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ ہاتھ سے رکشا کھنچوانا نہ صرف ایک تکلیف دہ منظر ہے بلکہ قومی ضمیر پر بھی سوالیہ نشان قائم کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Saurav Das-Ashutosh Ranka Bail: سورو داس-آشوتوش رانکا کو ملی ضمانت، ایس ای ایم کورٹ نے دیا رہا کرنے کا حکم

دہلی پولیس نے سورَو داس اورآشوتوش رانکا کو13 اکتوبرکوحراست میں لیا تھا۔ دونوں پرالزام ہے…

2 hours ago

Digvijaya Singh Yatra: دگ وجے سنگھ ایودھیا تک پیدل کیوں نکل پڑے؟ یاترا کے بہانے سیاسی پیغام یا سناتن پر مکالمہ؟

سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ ان دنوں اپنی پیدل یاترا کو لے کر سرخیوں…

2 hours ago

Yogi Adityanath AI video: سماج وادی پارٹی نے تمام حدیں پار کر دیں! اکھلیش یادو کے دفتر سے سی ایم یوگی کا اے آئی ویڈیو وائرل، یوپی کی سیاست گرم

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے دفتر میں وزیر اعلیٰ…

3 hours ago