قومی

The Opposition Faces an Existential Crisis: اپوزیشن کے سامنے وجود کا بحران… اگر بنگال جیسا حال رہا تو جمہوری سیاست کے دروازے بند ہو جائیں گے

مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت کو صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ بھارتی سیاست میں ایک بڑے بدلاؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جس سرزمین کو کبھی پارٹی کے لیے سب سے مشکل مانا جاتا تھا، وہاں کامیابی نے بی جے پی کے اعتماد کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کے سامنے اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اس بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کیسے روکا جائے۔

بی جے پی کا نیا بیانیہ

بی جے پی نے بنگال میں ’باہری بمقابلہ بنگالی شناخت‘ کی سیاست کو ہندوتوا اور فلاحی اسکیموں کے بڑے بیانیے سے چیلنج کیا۔ مضبوط تنظیم اور جذباتی ہندوتوا کی سیاست نے مل کر پارٹی کو تاریخی برتری دلائی۔ یہ جیت اس بات کا اشارہ ہے کہ بی جے پی اب صرف ہندی پٹی تک محدود نہیں رہی۔

زبان اور شناخت سے آگے

اس انتخاب نے یہ پیغام دیا کہ زبان اور علاقائی شناخت سے اوپر بھی ایک سیاسی شناخت قائم کی جا سکتی ہے۔ بنگال میں ہندوتوا کی مضبوط ہوتی گرفت نے جنوبی ہندوستان کی سیاست کے حوالے سے بھی بی جے پی کا اعتماد بڑھا دیا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں نے ممتا بنرجی کے ساتھ کھڑے ہو کر ’ووٹ چوری‘ کے الزامات لگائے۔ راہل گاندھی نے ان سے بات چیت کی جبکہ اکھلیش یادو کولکاتا پہنچ کر حمایت کا اظہار کرتے نظر آئے۔

ووٹ فیصد کا حساب

نتائج میں واضح طور پر نظر آیا کہ بی جے پی کو 45.84 فیصد ووٹ ملے، جبکہ ٹی ایم سی کو 40.80 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ کانگریس کو 2.97 فیصد، سی پی ایم کو 4.45 فیصد اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں کو تقریباً 1 فیصد ووٹ ملے۔ یعنی اپوزیشن جماعتوں کا مجموعی ووٹ شیئر 48.66 فیصد رہا، جو بی جے پی سے زیادہ تھا، لیکن ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے بی جے پی سبقت لے گئی۔ یہی اس انتخاب کا سب سے بڑا سیاسی پیغام مانا جا رہا ہے۔

ووٹوں کی تقسیم بمقابلہ ووٹ چوری

INDIA اتحاد کئی ریاستوں میں اتحادی جماعتوں کے درمیان ہی مقابلہ کرتا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن اب ’ووٹوں کی تقسیم بمقابلہ ووٹ چوری‘ کی بحث میں الجھ گئی ہے۔ جہاں جہاں اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہوئے، وہاں بی جے پی کو فائدہ ملا، خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں پارٹی پہلے سے مضبوط تنظیم رکھتی ہے۔

اپوزیشن کے لیے وارننگ

بنگال کا انتخابی حساب اپوزیشن جماعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔ اتر پردیش، گجرات اور پنجاب جیسی ریاستوں میں اگر اپوزیشن کے ووٹ اسی طرح بٹتے رہے تو بی جے پی کو براہِ راست فائدہ ملے گا۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی کمزوری یہی رہی کہ مخالف ووٹ متحد نہیں ہو سکے۔

صرف شکست نہیں، ایک سبق بھی

اب اپوزیشن کے سامنے چیلنج صرف اتحاد بنانے کا نہیں بلکہ مشترکہ قیادت اور مشترکہ بیانیہ تیار کرنے کا بھی ہے۔ بنگال کی جیت نے بی جے پی کو یہ اعتماد دے دیا ہے کہ ملک کا کوئی بھی خطہ اس کے لیے ناقابلِ رسائی نہیں۔ اپوزیشن کے لیے یہ صرف ایک شکست نہیں بلکہ ایک واضح انتباہ ہے۔ اگر وقت رہتے مشترکہ حکمتِ عملی اور مضبوط نظریاتی لائن تیار نہ کی گئی تو بی جے پی کے لیے نئے دروازے کھلتے جائیں گے اور اپوزیشن کے لیے راستے بند ہوتے جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago