نئی دہلی: سال کے تمام موسم میں ہمار بدن 37.5 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت برقرار رکھنے کی جد وجہد کرتا ہے، یہ وہ درجہ حرارت ہے جس ہر ہمارے جسم نے خود بخود کا کرنا سیکھ لیا ہے ۔تاہم جیسے جیسے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے ہمارے جسم کو اپنے بنیادی حرارت کو برقرار رکھنے میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔ان حالات میں ہمارا جسم جلد کے قریب واقع شریانوں کو کھول دیتا ہے۔
یہ کھلی شریانیں بلڈ پریشر میں کمی کرتی ہیں اور ہمارے دل کث جسم میں خون مہیا کرانے کے سلسلے میں زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔
ہمارے جسم میں ایک کیوبک میٹر کی جگہ میں تقریباً میں ایک ہزار چار سو 28 سو واٹ سے زیادہ انرجی پیدا کرتا ہے یہ سورج کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے ، اگر ہم سورج کی بات کریں سو رج ایک کیوبک میٹر صرف 278 واٹ انرجی پیدا کرتا ہے /یعنی کیوبک میٹر کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے یہ واقعی اپنے آپ میں حیرات انگیرز ہے ۔
بھارت ایکسپریس۔
اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…
تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…
دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…
جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ میٹرو نیٹ ورک کی توسیع سے لوگوں کو ٹریفک…
یہ معاملہ براہ راست ماحولیات اور عوامی صحت سے جڑا ہوا ہے۔عدالت نے واضح کیا…