قومی

Art seminar at ‘Kala Sankul: عالمی قدیم روایات کی بازگشت، ’کلا سنکل‘ میں ثقافتی سنگوشٹھی کا شاندار انعقاد

نئی دہلی: سنسکار بھارتی کے مرکزی دفتر “کلا سنکل” میں 31 مئی 2026 کو ماہانہ فنّی سنگوشٹھی کا انعقاد نہایت جوش و خروش اور ثقافتی وقار کے ساتھ کیا گیا۔ اس خصوصی پروگرام نے دنیا کی قدیم تہذیبی اور روحانی روایات کو عصرِ حاضر کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے حاضرین کو ثقافتی ورثے سے جوڑنے کی کامیاب کوشش کی۔تقریب کا آغاز معروف ستار نواز پنڈت پنکج وشال کی دلکش موسیقی سے ہوا۔ ان کے ستار کی سریلی دھنوں نے سامعین کو ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے رنگوں اور راگوں کی دنیا میں محو کر دیا۔ ان کے ساتھ مشہور طبلہ نواز استاد مصطفیٰ حسین نے سنگت کرتے ہوئے اپنی شاندار تال اور لے سے محفل کو مزید پراثر بنا دیا۔ دونوں فنکاروں کی مشترکہ پیشکش نے حاضرین کو مسحور کر دیا۔

اس کے بعد معروف کتھک رقاصہ شریمتی کرپا  تندولکر نے اپنی رقص کی دلکش پیشکش سے سامعین کو متاثر کیا۔ ان کی جذباتی ادائیگی، دلکش حرکات، پاؤں کی مہارت اور روحانی کیفیت سے بھرپور اظہار نے کلاسیکی رقص کی عظیم روایت کو زندہ کر دیا۔ فنکاروں کی ان پیشکشوں نے ہندوستانی کلاسیکی فنون کی لازوال روایت کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔اس موقع پر انٹرنیشنل سینٹر فار کلچرل اسٹڈیز (ICCS) کے تنظیمی وزیر سندیپ کویشور نے بطور مہمانِ خصوصی اور مقرر شرکت کی۔ انہوں نے ’’دنیا کی قدیم روایات‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے عالمی ثقافتی ورثے، فطرت پرستی، عالمی اخوت اور قدیم تہذیبی اقدار کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ قدیم زمانے میں دنیا کے مختلف خطوں میں کئی مثبت اور اعلیٰ روایات پروان چڑھی تھیں، جن میں سے متعدد آج بھی زندہ ہیں اور انسانیت کو جوڑنے کا کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان روایات کے تحفظ اور فروغ کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اپنی تہذیبی جڑوں سے واقف رہ سکے۔اس ثقافتی تقریب میں فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات، دانشوروں، طلبہ، ثقافت کے شیدائیوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ حاضرین میں معروف کلاسیکی گلوکارہ نوونیتا چودھری، سینئر تھیٹر آرٹسٹ اوتار، اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹس (IGNCA) کے شعبہ کلا درشن کی سربراہ ڈاکٹر رچا کمبوج ساہنی، شاعرہ، مصورہ اور گلوکارہ نشی سنگھ، لائٹ ڈیزائنر ملند شریواستو، کتھک رقاصہ ریکھا مہرا، نشانت گپتا، دیپالی جی، وزارت خارجہ کی نائب سیکریٹری میگھنا ویاس اروڑا، موسیقی کے استاد ڈاکٹر لوکیش ورما اور طبلہ نواز ناگیشور کرن سمیت متعدد معزز شخصیات شامل تھیں۔

پروگرام کی نظامت اس ماہ کی سنگوشٹھی کی کنوینر رتمبھرا رم جھم نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی، جبکہ شکریہ کی رسم سنگوشٹھی کے شریک کنوینر وشو دیپ جی نے ادا کی۔تقریب کی کامیابی میں محققہ گریما رانی، رقاصہ سنیہا مکھرجی، طبلہ نواز پردیپ پاٹھک، دیپیکا ٹھاکر، ماہر تعلیم و گلوکارہ سواتی شرما اور دیگر ثقافتی کارکنوں کا نمایاں کردار رہا۔ اس کے علاوہ فن ناقد اور تھیٹر آرٹسٹ شربونی ساہ، فوٹوگرافر و مصور وجیندر، بریجیش اور سنسکار بھارتی دہلی کے اسٹیج آرٹس کنوینر راج اُپادھیائے کی خدمات کو بھی سراہا گیا۔تقریب کا اختتام ہندوستانی فن، موسیقی اور دنیا کی قدیم روحانی و ثقافتی روایات کے تحفظ اور فروغ کے عزم کے ساتھ ہوا۔ حاضرین نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی تقریبات نہ صرف ثقافتی شعور کو فروغ دیتی ہیں بلکہ مختلف تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی احترام کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔

بھاررت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Bike rider Shivani Chauhan: گرفتاری کافی نہیں، سخت سزا ملنی چاہیے، گڑگاؤں ہٹ اینڈ رن کے ملزم کلیان بینسلا پر بولیں رائیڈر سیا

سیا نے کہا کہ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں پورا واقعہ بتایا…

2 hours ago

Sara Tendulkar: سارہ تندولکر کا دلکش انداز، بھابھی کے ساتھ دیے پوز، مداحوں کو گنیش چترتھی کی مبارکباد

سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…

2 hours ago