قومی

Delhi Waqf Board: منی لانڈرنگ کیس میں حیدر، داؤد اور امام پر عدالت کا فیصلہ محفوظ، ای ڈی نے کیا چونکا دینے والا انکشاف

دہلی وقف بورڈ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کی روؤس ایونیو کورٹ میں ایک بار پھر سماعت ہوئی۔ عدالت نے آج تینوں ملزمین کی ای ڈی کی تحویل میں توسیع کی مانگ پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ای ڈی نے ذیشان حیدر، داؤد ناصر، جاوید امام صدیقی کی تحویل میں 5 دن کی توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔ ای ڈی نے کئی انکشافات بھی کئے۔

ای ڈی نے کہا کہ ذیشان کے موبائل سے 36 کروڑ روپے کا معاہدہ سامنے آیا ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ ان کی ڈائری میں 6 کروڑ روپے کا نقد لین دین لکھا ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ تفتیش ایک اہم موڑ پر ہے اور تحقیقات کو کسی نتیجے پر پہنچانے کے لیے تینوں ملزمین کی ای ڈی کی تحویل کی ضرورت ہے۔

ڈائری میں 1200 گز کی جائیداد کا ذکر – ای ڈی

راؤس ایونیو کورٹ نے ای ڈی سے پوچھا کہ اس کیس میں جرم کی کیا آمدنی ہے؟ ای ڈی نے کہا کہ ہم چارج شیٹ میں کیس میں جرم کی آمدنی کے بارے میں بتائیں گے، ہمارا کسی اور جانچ ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ ڈائری میں 1200 گز کی جائیداد کا ذکر ہے، اور اس ڈائری میں امانت اللہ خان کا نام بھی لکھا ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ ہمیں یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ جائیداد کی قیمت 13 کروڑ روپے ہے، جبکہ اسی تاریخ کا ایک اور معاہدہ بھی 36 کروڑ روپے میں کیا گیا۔ ای ڈی نے کہا کہ کل 36 کروڑ روپے کا لین دین ہوا اور 13 کروڑ روپے ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔

ساتھ ہی ملزم جاوید امام کے وکیل نے کہا کہ اس سے پہلے بھی 15 بار پوچھ گچھ ہو چکی ہے، اب ای ڈی کی حراست میں پوچھ گچھ کی کیا ضرورت ہے۔ ملزم داؤد ناصر کے وکیل نے کہا کہ مجھ سے صبح 1 بجے تک پوچھ گچھ کی گئی، میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، ہسپتال میں سٹیرائیڈ دیا گیا اور وہاں سے واپس آنے کے بعد بھی مجھ سے پوچھ گچھ کی گئی اور انگلش پیپرز پر دستخط کروائے گئے، جس پر میں نے مخالفت کی۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ نقدی میں کوئی لین دین نہیں ہوا، 2 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن بینک کے ذریعے ہوئی۔ یہ جاوید امام کی جائیداد ہے جس کا معاہدہ تقریباً 13 کروڑ روپے میں تھا، میں نے بینک کے ذریعے 2 کروڑ روپے ادا کیے تھے۔

ملزم نے کہا کہ مجھے ڈائری کے ذریعے پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے، کسی کو نہیں معلوم کہ اس کی ڈائری میں کس کا نام اور کیسے لکھا گیا، میرا 6 کروڑ روپے سے کوئی تعلق نہیں۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ 2016 میں سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کی، جس میں چارج شیٹ داخل کی گئی ہے، جس میں امانت اللہ خان کو ضمانت مل گئی ہے، امانت اللہ خان کو سی بی آئی کیس میں گرفتار نہیں کیا گیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Amir Equbal

Recent Posts

Sports News: فیصلہ کن ٹیسٹ سے پہلے میڈنسن اور ہارپر آسٹریلیائی ٹیم سے باہر، اسمتھ فٹنس ٹیسٹ سے گزریں گے

آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر، فیصلہ کن مقابلے میں…

1 hour ago

Govt Decision On Flex Fuel Vehicles: فلیکس فیول گاڑیوں کو بڑی راحت، E85 کے ساتھ اب E100 ایتھنول پر چلنے والی گاڑیوں کو بھی منظوری

حکومت کے نئے قواعد کے مطابق، فلیکس فیول کے لیے تیار کی گئی گاڑیوں کو…

1 hour ago