قومی

Electoral Reforms Issue: کانگریس اور سماج وادی پارٹی SIR کے معاملے پر قومی مفاد کے بجائے ووٹ بینک کی سیاست کر رہی ہے: ڈاکٹر راجیشور سنگھ

لکھنؤ: جب بھی جمہوریت کی جڑوں پر ضرب لگتی ہے، تب قوم کو سچ کے ساتھ کھڑے مضبوط قیادت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی جانب سے خصوصی گہری نظرثانی (SIR) جیسے آئینی اور حساس مسئلے پر اختیار کیا گیا رویہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ ان جماعتوں کے لیے قومی مفاد نہیں بلکہ تنگ نظر ووٹ بینک کی سیاست سب سے زیادہ اہم ہے۔ بدھ کے روز سوشل میڈیا کے ذریعے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سروجنی نگر کے رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ غیر قانونی بنگلہ دیشی اور روہنگیا دراندازوں کے معاملے پر کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی خاموشی اور بعض معاملات میں بالواسطہ حمایت کسی بھی صورت میں لاعلمی میں کی گئی غلطی نہیں کہی جا سکتی۔ یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنائی گئی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی دراندازوں کو ووٹر بنا کر اقتدار کی سیاست کو مضبوط کرنا ہے۔ کسی بھی خودمختار، جمہوری اور باوقار قوم کے لیے یہ طرز عمل نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہے۔

ووٹروں کی فہرست جمہوریت کی مقدس بنیاد

ڈاکٹر سنگھ نے واضح کیا کہ ووٹروں کی فہرست جمہوریت کی مقدس بنیاد ہے، کوئی سیاسی ہتھیار نہیں۔ خصوصی گہری نظرثانی (SIR) ایک آئینی، ضروری اور ناگزیر عمل ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف حقیقی اور مستند بھارتی شہری ہی ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں نہ کہ غیر قانونی درانداز۔ ہر قوم پرست شہری کا اخلاقی اور آئینی فرض ہے کہ وہ اس مقدس جمہوری عمل کی حفاظت کرے۔

کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی خوشامدانہ سیاست

انہوں نے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک ہے کہ قومی سلامتی، سماجی توازن اور آبادیاتی سالمیت جیسے سنگین معاملات پر واضح اور جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرنے کے بجائے کانگریس اور سماج وادی پارٹی خوشامدانہ سیاست کی اندھی دوڑ میں شامل ہیں۔ مزارات اور درگاہوں پر سیاسی حاضری دی جاتی ہے، لیکن رام مندرجو بھارت کی تہذیبی شناخت، جمہوری جدوجہد اور آئینی حل کی علامت ہے وہاں نہ وقت ہے، نہ احترام اور نہ ہی سیاسی عزم۔

ملک پہلے یا غیر قانونی ووٹ بینک پہلے

یہ سیکولرازم نہیں، بلکہ ایک منظم، موقع پرستانہ اور مجرمانہ خوشامد ہے۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے کہا کہ آج ملک کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جو قوم پرستی، آئین اور قومی سلامتی کی اقدار پر مبنی ہو نہ کہ ایسی سیاست جو وقتی انتخابی فائدے کے لیے جمہوریت کی پاکیزگی، ثقافتی شناخت اور قومی مفاد کو داؤ پر لگا دے۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے: ملک پہلے یا غیر قانونی ووٹ بینک پہلے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Rahul Gandhi Wins 2018 Defamation Case: راہل گاندھی 6 سال بعد ہتکِ عزت کے مقدمے میں کیسے ہوئے بری؟ یہ 2 نکات بنے اہم

سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں راہل گاندھی کارروائی شروع ہونے…

23 minutes ago

PM Modi congratulates ‘dear friend’ Lula da Silva: وزیر اعظم مودی نے ’عزیز دوست‘ لولا کو برازیل کے صدارتی انتخابات میں کامیابی پر مبارک دی باد

صدر لولا فروری 2026 میں ہندوستان کے دورے پر آئے تھے۔ اس دوران حیدرآباد ہاؤس…

59 minutes ago

Setback for Team India: ٹیم انڈیا کو جھٹکا، نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹی 20 میچ سے بھی باہر ہوئے ایشان کشن

ایشان کشن کی جگہ دوسرے ٹی 20 میچ میں ویبھَو سوریہ ونشی کو پلیئنگ الیون…

3 hours ago

Cyclonic Storm ‘Arnab’ in the Bay of Bengal: خلیج بنگال میں سمندری طوفان ’ارنَب‘، بھارت میں ہائی الرٹ، ان ریاستوں میں دکھائی دے گا اثر

سمندری طوفان کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اڈیشہ، مغربی بنگال اور آندھرا پردیش میں قومی…

3 hours ago