قومی

Pm Modi Spoke to Chief Justice of India: وزیراعظم نریندر مودی نے چیف جسٹس بی آر گوئی سے فون پر کی بات—سپریم کورٹ میں حملے پر سخت ناراضگی کا اظہار

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں پیر کے روز ایک وکیل کی جانب سے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) بی آر گوئی پر جوتا پھینکنے کی ناکام کوشش کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے چیف جسٹس سے فون پر بات کی۔ یہ واقعہ ایک سماعت کے دوران اس وقت پیش آیا جب ایک معمر وکیل نے مبینہ طور پر جوتا اچھالنے کی کوشش کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ تنازع چیف جسٹس کی ایک مذہبی حوالے سے کیے گئے تبصرے کے بعد پیدا ہوا۔ چیف جسٹس گوئی نے اس واقعے کو ہلکے انداز میں لیتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کا حوصلہ متزلزل نہیں ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے وکلا سے کہا کہ ’’ایسی باتوں سے پریشان نہ ہوں، ہم متاثر نہیں ہیں، ان واقعات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘

وزیراعظم مودی کا سخت ردعمل

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر اپنے پیغام میں کہا: ’’میں نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی جی سے بات کی۔ آج صبح سپریم کورٹ میں ان پر ہوا حملہ پورے ملک کے ہر شہری کو غمگین کر گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسی نفرت انگیز حرکتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔‘‘ وزیراعظم نے مزید کہا کہ جسٹس گوئی نے اس موقع پر جس تحمل اور وقار کا مظاہرہ کیا، وہ ان کی انصاف کے اصولوں اور آئین کی عظمت کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل وابستگی کی علامت ہے۔

سونیا گاندھی کی شدید مذمت

کانگریس کی پارلیمانی پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی نے بھی چیف جسٹس پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے آئین پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: ’’بھارت کے معزز چیف جسٹس پر حملے کی مذمت کے لیے کوئی الفاظ کافی نہیں۔ یہ صرف ان پر نہیں بلکہ ہمارے آئین پر حملہ ہے۔‘‘ انہوں نے جسٹس گوئی کو ایک نیک دل اور باوقار شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’قوم کو ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے اور اس حملے کی مخالفت میں ایک آواز بننا چاہیے۔‘‘

کیا ہے پورا معاملہ؟

اطلاعات کے مطابق، سپریم کورٹ میں پیر کے روز کارروائی کے دوران 71 سالہ ایک وکیل نے چیف جسٹس بی آر گوئی کی جانب جوتا پھینکنے کی کوشش کی۔ تاہم یہ کوشش ناکام رہی۔ واقعے کے باوجود چیف جسٹس نے مکمل تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وکلا سے کہا کہ اپنی دلائل جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا: ’’ایسی حرکات سے گھبرانے یا متاثر ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان باتوں سے ہمارا حوصلہ نہیں ٹوٹے گا۔‘‘ سپریم کورٹ کے اندر پیش آیا یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف عدلیہ پر حملہ سمجھا جا رہا ہے بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی وقار کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ حکومت و اپوزیشن دونوں نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے عدلیہ کے وقار کے تحفظ پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

National Ayurveda Day 2026: ’دنیا کے لیے پائیدار صحت کا ماڈل ہے بھارت کا آیوروید‘، قومی آیوروید دن پر امت شاہ نے کیا کہا؟

قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…

37 minutes ago

Ayushman Bharat 8 Years: ’دنیا کی سب سے بڑی ہیلتھ اسکیم‘، آیوشمان بھارت کے 8 سال مکمل ہونے پر پی ایم مودی نے کیا کہا؟

مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…

50 minutes ago

Gold Flake Cigarettes Get Costlier: گولڈ فلیک سگریٹ ہوئی مہنگی، جانئے 10 اور 20 سگریٹ والے پیکٹ کی نئی قیمت

سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…

2 hours ago