تحریر: ڈاکٹر سیّد سلیمان اختر
زیادہ تر لوگ بجلی کے نظام پر اسی وقت توجہ دیتے ہیں جب روشنیاں مدھم پڑنے لگیںیا سپلائی چین کے بارے میں اسی وقت فکر مند ہوتے ہیں جب روز مرہ کی ضروریات کی دکان کی شیلف خالی ملیں۔ مسلسل بے یقینی اور تعطل کی دنیا میں کسی معیشت کی اصل کسوٹییہ نہیں ہے کہ وہ رکاوٹوں سے کس حد تک بچ سکتی ہے ، بلکہ یہ کہ وہ کتنی تیزی سے دوبارہ سنبھل سکتی ہے۔
گوا اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سینئر رابطہ کار گوہر جیلانی نے ’’استحکام اور معاشی لچک کی حکمت عملیاں‘‘ کے موضوع پر منعقد انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام کے دوران مشاہدہ کیا کہ امریکہ کس طرح تیاری اور بحالی کی منصوبہ بندی کو روزمرہ کے انتظامی امور میں شامل کرتا ہے۔ امریکی اداروں، کاروباری حلقوں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ ان کی گفتگو نے ان پر ایک اہم سبق واضح کیا۔ اور وہ یہ تھا کہ طویل مدتی استحکام قابلِ اعتماد اداروں اور مقامی شراکت داریوں پر منحصر ہوتا ہے۔
ادارہ جاتی مضبوطی
پورےامریکہ میں جیلانی نے دیکھا کہ تیاری کو بحران کے بعد کی کاروائی کے طور پر نہیں بلکہ معاشی حکمت عملی کے لازمی عنصر کے طور پر اپنایا جاتا ہے۔ وہ اس بات کا اشتراک کرتے ہیں کہ ورمونٹ میں چھوٹے کاروبار کی ترقی کا مرکز(ایس بی ڈی سی )چھوٹے کاروباریوں کو قدرتی آفات، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع ٹول کِٹ(مددگار وسائل کا جامع مجموعہ) فراہم کرتا ہے۔ جیلانی کے مطابق ’’ اقتصادی بحالی کو آفات سے نمٹنے کے نظام کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یوں تیاری اور بحالی ایک مسلسل اور مربوط عمل بن جاتے ہیں۔‘‘
جیلانی کے مطابق، امریکہ میں عوامی پالیسی اور نجی شعبے کی کوششیں ایک دوسرے کو مضبوط بناتی ہیں۔ حکومت اہداف کا تعین اور مالی وسائل فراہم کرتی ہے، جبکہ کاروبار جدت اور مؤثر نفاذ کو یقینی بناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ سب سے نمایاں چیز مشترکہ ذمہ داری کا جذبہ تھا۔ یہی پیش گوئی کی صلاحیت کاروباروں کو طویل مدت کے لیے سرمایہ کاری کا حوصلہ دیتی ہے۔‘‘
واشنگٹن ڈی سی سے لے کر ورمونٹ، جارجیا اور اوریگن تک، جیلانی نے مشاہدہ کیا کہ مقامی کاروبار سیلاب اور طوفان جیسے بحرانوں کے بعد اپنے کام کو جاری رکھنے کے لیے کمیونٹی کے روابط پر بھروسا کرتے ہیں۔ ورمونٹ کے کولڈ ہولو سائیڈر مل جیسے چھوٹے کاروباروں کے دوروں نے دکھایا کہ مقامی سطح پر خریداری اور فراہمی معاشی سرگرمی کو زندہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
مسئلہ حل کرنے کا عملی انداز
جیلانی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ امریکہ میں جدت کو مراعات اور مخصوص مالی سہولتوں کے ذریعے فروغ دیا جاتا ہے، جہاں حکومت، جامعات اور صنعت باہم مل کر کام کرتے ہیں۔ اٹلانٹا کا جارجیا سینٹر آف انوویشن فنی مہارت رکھنے والی کمپنیوں کو ریاستی وسائل سے مربوط کرتا ہے تاکہ ایسے حل کو فروغ دیا جائے جو رکاوٹوں کا سامنا کر سکیں۔
جیلانی کے الفاظ میں ’’ استحکام کو اضافی لاگت نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ جب خطرات کم اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے تو کاروبار پائیدار اور طویل مدتی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ ‘‘
غیر یقینی حالات میں اعتماد
جیلانیجب آئی وی ایل پی میں شرکت کے بعد امریکہ سے ہندوستان لوٹے تو ان کا ذہن اس معاملے میں بالکل صاف تھا کہ اقتصادی استحکام صرف بنیادی ڈھانچے پر منحصر نہیں بلکہ اسے چلانے والے پر بھی منحصر ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام نے یہ بات اجاگر کی کہ استحکام بڑے اقدامات سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، مقامی تعاون اور عملی حل تلاش کرنے کے عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ ‘‘ امریکہ بھر میں مربوط منصوبہ بندی اور مربوط نظام تعطل کو محدود کرنے اور بحالی کو تیز کرنے میں مددگار ہیں۔جیلانی کے بقول’’ یہ مستقل مزاجی امریکہ کو عالمی غیر یقینی کی صورت حال میں بھی ایک بھروسے مند اقتصادی شراکت دار بناتی ہے۔ ‘‘
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو۔
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…