قومی

Tensions in India-US relations: ہند۔امریکہ تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ، کواڈ سمٹ میں شرکت کے لیے دہلی نہیں آئیں گے ڈونالڈ ٹرمپ

نئی دہلی: ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں مسلسل بڑھتے تناؤ کے درمیان خبر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنا مجوزہ دورۂ ہند منسوخ کر دیا ہے۔ ’نیو یارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اب کواڈ چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے ہندوستان نہیں آئیں گے۔ اس رپورٹ میں ٹرمپ کے پروگرام سے باخبر ذرائع کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ نے پہلے وزیراعظم نریندر مودی کو مطلع کیا تھا کہ وہ سال کے آخر میں ہندوستان کا دورہ کریں گے، مگر اب یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کی حکومتوں کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سال کے آخر میں ہندوستان کواڈ چوٹی کانفرنس کی میزبانی کرنے والا ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری میں کواڈ وزرائے خارجہ اجلاس منعقد کیا تھا، جو ان کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز کے وقت ہوا تھا۔

تجارتی کشیدگی اور تلخی

’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق تجارتی معاملات، خصوصاً ٹیرف اور جنگ بندی کے حوالے سے ٹرمپ کے بار بار دعووں نے مودی اور ٹرمپ کے تعلقات میں دراڑ پیدا کر دی ہے۔ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے ہند۔پاک کے درمیان چار روزہ جنگ بندی میں مدد کی تھی، لیکن حکومت ہند نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا۔ ’نیو یارک ٹائمز‘ کے مطابق ان بیانات سے وزیراعظم مودی ناخوش ہیں اور ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی 17 جون کو 35 منٹ کی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی، جو اس وقت ہوئی جب ٹرمپ جی-7 چوٹی کانفرنس کے بعد کینیڈا سے واشنگٹن واپس جا رہے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ دونوں رہنما کانفرنس کے دوران ملاقات کریں گے، لیکن ٹرمپ جلدی روانہ ہو گئے اور صرف فون پر بات چیت ہوئی۔

وزیراعظم مودی کا واضح پیغام

ہندوستانی خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے کہا تھا کہ وزیراعظم مودی نے ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا کہ نہ تو کوئی ہند۔امریکہ تجارتی معاہدہ زیرغور تھا اور نہ ہی ہند۔پاک جنگ بندی میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی تھی۔ مسری کے مطابق جنگ بندی دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان موجودہ فوجی چینل کے ذریعے ہوئی، جس کی پہل پاکستان نے کی تھی۔

ٹرمپ کا نوبل انعام کا ذکر

رپورٹ کے مطابق 17 جون کی گفتگو میں ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگ بندی کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ پاکستان انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرمپ کا اشارہ تھا کہ مودی کو بھی ان کی حمایت کرنی چاہیے، لیکن مودی نے اس دعوے کو یکسر مسترد کیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ وائٹ ہاؤس نے اس کال کو کبھی عوامی طور پر تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی ٹرمپ نے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ 10 مئی سے اب تک ٹرمپ عوامی طور پر 40 سے زیادہ مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے ہند۔پاک کے درمیان جنگ بندی کرائی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Home Minister Amit Shah: سائیکلون ’ارنب‘ پر وزیر داخلہ امت شاہ کی 4 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات، ہر ممکن مدد کی یقین دہانی

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آندھرا پردیش، پڈوچیری، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے وزرائے…

41 minutes ago

Azam Khan gates Bell PAN Card Case: اعظم خان اورعبداللہ اعظم کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ملی ضمانت، سزا معطل

سماجوادی پارٹی کے سینئرلیڈراعظم خان اورعبداللہ اعظم کوالہ آباد ہائی کورٹ نے دوپین کارڈ کیس…

1 hour ago

Jio IPO: جیو کی شیئر بازار میں دھماکے دار انٹری، 104 سے بڑھ کر 80 لاکھ ہوئے شیئر ہولڈرز

مکیش امبانی کی جیو پلیٹ فارمز کے شیئر ہولڈرز کی تعداد 104 سے بڑھ کر…

2 hours ago