نئی دہلی/سری نگر— ایسے وقت میں جب ملک میں مذہبی نمائندگی، خاص طور پر وقف بورڈز میں ہندو اراکین کی شمولیت پر بحث جاری ہے، کشمیر میں خاموشی سے ایک دل کو چھو لینے والی کہانی جنم لے رہی ہے — اتحاد، اعتماد اور شمولیتی قوم پرستی کی۔
سورت، گجرات میں قائم معروف مذہبی و سماجی ادارہ سائی مندر سنستھان نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے کشمیری مسلمان اور معروف سماجی کارکن فردوس بابا کو اننت ناگ میں مجوزہ سائی مندر منصوبے کا ٹرسٹی مقرر کیا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں شناخت کی سیاست اکثر تفریق پیدا کرتی ہے، یہ ایک تقرری بہت کچھ کہتی ہے: کہ بھارت کی اصل روح تقسیم میں نہیں بلکہ مشترکہ خدمت اور باہمی احترام میں ہے۔
گجرات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے حقوق کی کارکن اور یونیفارم سول کوڈ ڈرافٹنگ کمیٹی کی رکن گیتا شروف بھی اس منصوبے کی ٹرسٹی ہیں اور وہ خواتین پر مبنی اقدامات کی قیادت کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مرکز دنیا کو کشمیری خواتین کی ایک نئی پہچان دے گا — مظلوم نہیں، تبدیلی کی علمبردار۔ وہ کہتی ہیں: “کشمیر کی خواتین کو اب صرف مظلوم کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا، بلکہ ایک نئے کل کی معمار کے طور پر پہچانا جائے گا۔ یہاں کا ہر ٹانکا امید کی ڈور بنے گا — ان کے لیے، ان کے بچوں کے لیے، اور بھارت کے لیے۔”
ان کی موجودگی یہ بھی واضح کرتی ہے کہ یہ منصوبہ ایک قومی وژن کا حامل ہے، جو مقامی ہمدردی کو قومی پالیسی کی سوجھ بوجھ سے جوڑتا ہے۔
سائی مندر سنستھان، سورت کے صدر آچاریہ شیام سریش اس پہل کی بڑی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں: “جب ایک ہندو مندر محض نمائشی طور پر نہیں بلکہ عملی بنیاد پر ایک مسلمان کو ٹرسٹی بناتا ہے، تو یہ ہماری تہذیب کی سب سے گہری قدروں کی عکاسی کرتا ہے۔ ‘انسانیت کا مندر’ بھارت کی تہذیبی خوداعتمادی کو خراجِ تحسین ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم تنوع سے نہیں گھبراتے، ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔ آج جب بلند آوازیں ہمیں تقسیم کر رہی ہیں، یہ خاموش عمل ہمیں جوڑ رہا ہے۔”
فردوس بابا کشمیری عوام کے لیے کوئی اجنبی نام نہیں ہیں۔ کشمیر سیوا سنگھ کے بانی کی حیثیت سے انہوں نے تعلیم، صحت، بحالی اور ہنر مندی جیسے میدانوں میں برسوں تک کام کیا ہے— خاص طور پر ان علاقوں میں جو تنازعات سے متاثر اور نظر انداز شدہ ہیں۔ مندر ٹرسٹ میں ان کی شمولیت کسی علامتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی خدمات، دیانتداری اور وژن کا سچا اعتراف ہے۔ یہ بھارت اور دنیا کو ایک مضبوط، تسلی بخش پیغام دیتا ہے۔ یہاں عقیدہ انفرادی معاملہ ہے، مگر خدمت آفاقی۔ ایک مسلمان شخص کا سائی بابا جیسے ایسے سنت کے مندر کا اہم ٹرسٹی ہونا، جنہیں تمام مذاہب کے لوگ مانتے ہیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ روحانیت اور خدمت ہر حد پار کر سکتی ہے۔
یہ اہم قدم ایک گہرے صدمے کے سائے میں اٹھایا گیا ہے۔ پہلگام میں ہونے والے ایک المناک دہشت گردانہ حملے نے جو جذباتی زخم چھوڑے، ان کے بعد وادی میں شفا کی فوری ضرورت محسوس ہوئی۔ مگر بدلے یا کنارہ کشی کے بجائے، اس ٹرسٹ نے ہمدردی کے ذریعے تعمیر نو کا راستہ چنا۔ اننت ناگ میں “انسانیت کا مندر” صرف ایک مذہبی مقام نہیں ہوگا بلکہ ایک زندہ سماجی نظام ہوگا جو خواتین کو بااختیار بنانے، بچوں کو تعلیم دینے، اور تمام مذاہب و طبقات کے لوگوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔
ٹرسٹ کا منصوبہ ہے کہ مندر کے احاطے کے ساتھ کئی سماجی سہولیات بھی قائم کی جائیں، جن میں خواتین کے لیے ووکیشنل ٹریننگ سینٹر (سلائی، کڑھائی، اور ڈیجیٹل لٹریسی کورسز)، نوجوانوں کے لیے ہنر مندی اور کاروبار کی تربیت، ایک اسکول یونٹ (تعلیمی مواد کی مفت تقسیم، ٹیوٹرنگ، اور شمولیتی تعلیم)، اور ہفتہ وار ہیلتھ کیمپس شامل ہیں۔ یہ صرف خیرات نہیں — یہ باقاعدہ بااختیاری ہے۔ ایک ایسا ترقیاتی ماڈل جو بھارتی اقدار پر مبنی ہے۔
اپنی تقرری پر اظہار خیال کرتے ہوئے فردوس بابا کہتے ہیں: “میں ایک مسلمان ہوں، اور پھر بھی مجھے سائی بابا کے مندر میں خدمت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہی اصل بھارت ہے — جہاں آپ کا کام آپ کے نام سے بڑھ کر ہے، آپ کی ہمدردی آپ کی شناخت سے زیادہ اہم۔ پہلگام کے درد کا جواب نفرت سے نہیں، ہم آہنگی سے دینا ہے۔ کشمیر سیوا سنگھ کے ذریعے ہم ہمیشہ یقین رکھتے تھے کہ وادی کو ہتھیاروں کی نہیں، ہنر کی ضرورت ہے۔ آج وہ خواب ‘انسانیت کے مندر’ کی صورت میں حقیقت بن رہا ہے۔ یہ صرف ایک مندر نہیں — ایک سماجی انقلاب کی تعمیر ہے۔”
یہ اقدام، جو کشمیر کی سرزمین پر قائم ہو رہا ہے مگر گجرات کے ادارے کے وژن سے نکلا ہے، خوف اور نفرت کی سیاست کے خلاف ایک متبادل بیانیہ پیش کرتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت کا مستقبل صرف رسومات یا نعروں میں نہیں — بلکہ شمولیتی عمل، زمینی سطح کی سیوا اور بے خوف ہمدردی میں ہے۔ جو ہاتھ دعا کے لیے اٹھتا ہے، وہ خدمت کے لیے بھی اٹھے۔ جو دل عقیدت میں جھکتا ہے، وہ ہمدردی میں بھی بلند ہو۔ یہی وہ بھارت ہے جسے ہم تعمیر کر رہے ہیں — نہ صرف مندروں میں، بلکہ اسکولوں، کلینکوں اور کمیونٹی ہالوں میں۔
جب اننت ناگ میں “انسانیت کے مندر” کی پہلی اینٹ رکھی جا رہی ہے، وہ صرف ایک عمارت نہیں بن رہی، وہ ایک پیغام دے رہی ہے۔ ایک پیغام کہ بھارت کی عظمت کسی ایک مذہب میں نہیں، بلکہ سب مذاہب کو عمل کے ذریعے گلے لگانے میں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایس پی وشواجیت دیال کو مںجھوے ریت گھاٹ پر غیر قانونی کان کنی اور ریت…
دو بار کی اولمپک تمغہ جیتنے والی پی وی سندھو نے کمیلا سماگولووا کو یکطرفہ…
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 48000 کروڑ روپے کی لاگت والا یہ منصوبہ آسام میں…
سپر ال نینو الرٹ: 180 سے زائد سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ شدید…
اڈانی احمد آباد مریاتھن کے 10ویں ایڈیشن کی آفشل جرسی جاری کر دی گئی۔ احمد…
پتنجلی یوگ پیٹھ پہنچنے پر سوامی رام دیو جی نے انتہائی احترام اور سادگی کے…