تلنگانہ کے ہنمکونڈا اور کاماریڈی اضلاع سے سامنے آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ریاستی سیاست، دیہی نظم و نسق اور انسانی اقدار پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ گرام پنچایت انتخابات کے دوران کیے گئے ایک انتخابی وعدے کو پورا کرنے کے نام پر 500 سے زائد آوارہ کتوں کو زہریلے انجکشن دے کر مار دیا گیا۔ پولیس نے اس اجتماعی قتل کے معاملے میں سات منتخب سرپنچوں سمیت کل 15 افراد کے خلاف جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانون کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ تحقیقات کے مطابق، گاؤں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد سے پریشان بعض گاؤں کے افراد کو خوش کرنے کے لیے کئی امیدواروں نے ”کتوں سے پاک گاؤں“ کا وعدہ کیا تھا۔ انتخابات کے بعد کامیاب ہونے والے سات سرپنچوں نے مبینہ طور پر اس وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ تیار کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران منظم طریقے سے سیکڑوں کتوں کو زہر آلود انجکشن دیے گئے۔ اس پورے عمل میں گرام پنچایت کے سیکریٹری، عملہ اور تین نجی ٹھیکیدار شامل تھے، جنہیں انجکشن اور زہریلے مواد کی فراہمی کے لیے رقم ادا کی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق، کتوں کو پکڑنے اور مارنے کا کام زیادہ تر رات کے وقت کیا گیا تاکہ عوامی ردعمل سے بچا جا سکے۔ ہنمکونڈا ضلع کے شائم پیٹ، ارے پلی اور پلوانچا علاقوں سے اب تک ایک سو دس کتوں کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ ”نامعلوم زہریلا مادہ“ بتائی گئی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ اصل تعداد پانچ سو سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ کئی لاشیں مختلف مقامات پر دفن یا ٹھکانے لگا دی گئی تھیں۔
اس واقعے کے منظر عام پر آتے ہی پولیس نے فوری کارروائی شروع کر دی۔ تمام ملزمان کے خلاف جانوروں پر ظلم کی روک تھام کے قانون 1960 اور متعلقہ تعزیراتی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سرپنچوں نے زبانی اجازت دی، پنچایت عملے نے انتظامی سہولتیں فراہم کیں اور نجی ٹھیکیداروں نے ڈاگ کیچرز کے ذریعے کتوں کو قابو میں لا کر انجکشن لگوائے۔
ملزمان میں شامل ساتوں سرپنچ حال ہی میں منتخب ہوئے تھے، جن پر انتخابی وعدوں کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔ ان کے علاوہ گرام پنچایت کے سیکریٹری، دیگر ملازمین اور تین نجی ٹھیکیدار بھی ایف آئی آر میں نامزد ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور جلد ہی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔ واقعے کے بعد جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سماجی کارکنوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان تنظیموں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے اور آوارہ کتوں کے مسئلے کے حل کے لیے انسان دوست طریقے، جیسے نس بندی اور ویکسینیشن پروگرام، اپنائے جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی وعدوں کی تکمیل کے نام پر اس طرح کی بے رحمی نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سماج کی اخلاقی بنیادوں کو بھی کمزور کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…