قومی

Tejashwi Yadav hits back at PM Modi: ’’ملک کی معیشت ڈوب رہی…بہار کے ساتھ ہو رہا ہے سوتیلا سلوک…‘‘، تیجسوی یادو کا پی ایم مودی پر جوابی حملہ

پٹنہ: بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے وزیر اعظم نریندر مودی کے کانگریس کو ’طفیلی پارٹی‘ اور آر جے ڈی کو ذات پرستی پھیلانے کے الزامات کا سخت جواب دیا۔ تیجسوی نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون کس کو ڈبو رہا ہے بلکہ سچائی یہ ہے کہ ملک کی معیشت تباہ ہو رہی ہے اور بہار کے ساتھ مسلسل سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا، ’’کوئی کسی کو نہیں ڈبو رہا، بلکہ پورا ملک ڈوب رہا ہے۔ معیشت بحران کا شکار ہے، مہنگائی اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ ڈبل انجن والی حکومت بہار کو ترقی کے معاملے میں مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ اگر وزیر اعظم کو اتنی ہی فکر ہے تو وہ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دیں اور ترقی کی بات کریں۔ وقت ہی بتائے گا کہ کون کس کو ڈبوتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے حال ہی میں کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہ صرف خود ڈوب رہی ہے بلکہ اپنے اتحادیوں کو بھی ڈبو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس بہار میں ذات پرستی کا زہر پھیلا کر آر جے ڈی کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تیجسوی نے کہا کہ اس طرح کے بیانات اصل مدعے سے توجہ ہٹانے کے لیے دیے جا رہے ہیں۔

تیجسوی یادو نے بہار کی ترقی پر مرکزی حکومت کے رول پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست کو طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کی بات آتی ہے تو مرکزی حکومت خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ حال ہی میں ہوئے انتخابات میں بی جے پی کو 27 سال بعد دہلی میں واضح اکثریت ملی ہے۔ دہلی اسمبلی کی 70 سیٹوں میں سے اس نے 48 سیٹیں جیتی ہیں، جب کہ عام آدمی پارٹی کو 22 سیٹیں ملی ہیں۔ کانگریس کا کھاتہ نہیں کھلا ہے۔ اس سے قبل بی جے پی نے 1993 میں 49 سیٹیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی جس کے بعد مدن لال کھرانہ، صاحب سنگھ ورما اور سشما سوراج وزیر اعلیٰ بنے۔ 1998 کے بعد کانگریس نے 15 سال حکومت کی اور 2013 سے عام آدمی پارٹی نے حکومت بنائی۔ اس الیکشن میں بی جے پی نے 71 فیصد کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 40 سیٹوں کا اضافہ کیا ہے۔ پارٹی نے 68 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا۔ دوسری طرف عام آدمی پارٹی کو 40 سیٹوں کا نقصان ہوا، اور اس کا اسٹرائیک ریٹ 31 فیصد رہا۔

بی جے پی نے گزشتہ انتخابات (2020) کے مقابلے میں اپنے ووٹ شیئر میں 9 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ہے، جب کہ AAP کے ووٹ شیئر میں تقریباً 10 فیصد کمی آئی ہے۔ کانگریس نے کوئی سیٹ نہیں جیتی لیکن اس کے ووٹ شیئر میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Cockroach Janata Party: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کو آشوتوش رنکا کا چیلنج، کہا-ابھی تو صرف شروعات ہوئی ہے

آشوتوش رنکا نے اپنی پوسٹ میں کہا تھا کہ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر…

2 hours ago

LPU Student Protest: ایل پی یو میں طلبہ کا احتجاج بے قابو، پولیس کے ساتھ جھڑپ، فگواڑا-جالندھر ہائی وے جام، کئی گاڑیاں میں لگائی آگ

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…

10 hours ago

Ashok Singhal Birth Centenary: اشوک سنگھل کی جنم صدی پر گونجا ’رام نام‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوانوں سے کیا اپیل

بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…

11 hours ago