لکھنؤ/غازی آباد: راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیراعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا ہے کہ استاد معاشرے کو سمت دینے کے ساتھ نئی نسل کی تعمیر کرتا ہے۔ وہ نہ صرف خوش اخلاق اور نرم گفتار ہوتا ہے بلکہ قوم کے لیے فکر و شعور بھی بیدار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارت کی ترقی اور بیداری کا دور ہے اور اب دنیا کو یہ بتانے کا وقت آ گیا ہے کہ بھارت ہمیشہ سرفہرست تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کا ہدف ضرور حاصل ہوگا، جبکہ تعلیم میں حقیقی اصلاحات صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت میں ہی ممکن ہوئیں۔
اساتذہ کی عزت اور شائستگی ہی حقیقی عظمت کی بنیاد
غازی آباد میں میرٹھ-سہارنپور-غازی آباد اساتذہ حلقہ سے قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کے بی جے پی امیدوار چندر شرما کی حمایت میں منعقدہ اساتذہ، پرنسپلوں اور تعلیمی اداروں کے منتظمین کے ایک بڑے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ نرم خوئی اور شائستہ برتاؤ ہی انسان کو حقیقی معنوں میں بڑا بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے زمانے میں زیادہ عمر والے افراد کا احترام کیا جاتا تھا، لیکن آج زیادہ آمدنی رکھنے والوں کو عزت دی جاتی ہے، جو افسوسناک رجحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزت و وقار ہمیشہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو ہمت سے کام لیتے ہیں۔ جو شخص کام کرتا ہے، اس پر تنقید ہونا ایک فطری بات ہے، جبکہ جس کی مخالفت نہیں ہوتی، اس کی ترقی بھی نہیں ہوتی۔
بی جے پی حکومت میں تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات
ڈاکٹر دنیش شرما نے بطور وزیر تعلیم اپنے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں اساتذہ کے تبادلوں اور ترقیوں کا شفاف نظام نافذ کیا گیا، پروفیسر کا عہدہ متعارف کرایا گیا، نقل سے پاک امتحانات کا نظام قائم کیا گیا، این سی ای آر ٹی نصاب نافذ کیا گیا، امتحانات اور نتائج بروقت کرائے گئے، ریٹائرمنٹ کے وقت تمام واجبات کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی گئی، آن لائن تبادلہ نظام نافذ کیا گیا اور غیر امدادی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی اساتذہ کے انتخابات میں ووٹ دینے کا حق دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جز وقتی اساتذہ کے عہدے سے ’’جز وقتی‘‘ کی اصطلاح بھی ختم کی گئی۔ ان کے مطابق، آن لائن تبادلوں کے نظام سے اساتذہ کو بڑی سہولت ملی، جبکہ تعلیمی اصلاحات کے چار بنیادی نکات میں معیاری تعلیم کو مرکزی حیثیت دی گئی، جس کے لیے نصاب میں تبدیلی کر کے این سی ای آر ٹی کی کتابیں شامل کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نقل سے پاک امتحانات کے نظام نے اتر پردیش کی شبیہ کو یکسر بدل دیا۔
دفعہ 370 کا خاتمہ ناممکن کو ممکن بنانے کی مثال
ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ ہر شخص کو اعتماد کے ساتھ کام کرنا چاہیے اور شکوک و شبہات سے بچنا چاہیے، کیونکہ شک کرنا اور تنقید کرنا ناقدین کا کام ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناممکن صرف وہی کام ہوتا ہے جسے انسان کرنا نہ چاہے، لیکن اگر پختہ عزم کر لیا جائے تو ہر مشکل آسان ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کرکے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے ’’خوشحال استاد، معیاری تعلیم، ذہنی دباؤ سے آزاد طالب علم اور نقل سے پاک امتحانات‘‘ کے چار بنیادی اہداف کو سامنے رکھ کر اساتذہ اور تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے کام کیا۔ آخر میں انہوں نے آئندہ اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔ اجلاس میں وزیر سنیل شرما، رکن پارلیمنٹ اتل گرگ، بی جے پی کے میٹروپولیٹن صدر مینک گوئل، قانون ساز کونسل کے رکن شری چند شرما اور رکن اسمبلی سنجیو شرما سمیت متعدد رہنما موجود تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…