نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی سی) میں جاری قیادت کے تنازع میں مداخلت کرتے ہوئے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور مجاز دستخط کنندگان سے متعلق متضاد دعوؤں پر ممتا بنرجی اور رتبرتا بنرجی دونوں سے وضاحت طلب کی ہے۔ کمیشن نے دونوں فریقوں کو پیر، 6 جولائی شام 5:30 بجے تک اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ رتبرتا بنرجی کی قیادت والے گروپ نے پارٹی کی تنظیمی حیثیت، انتخابی نشان اور انتظامی اختیارات پر اپنا دعویٰ پیش کیا ہے، جس کے بعد کمیشن نے دونوں فریقوں سے باضابطہ جواب مانگا ہے۔
ترنمول قیادت نے باغی گروپ کو غیر قانونی قرار دیا
الیکشن کمیشن کی جانب سے باغی گروپ کو سماعت کا موقع دیے جانے پر ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس گروپ کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ لوگ کسی اعتبار کے حامل نہیں ہیں۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ انہیں الگ سے ملاقات کا وقت کیوں دیا گیا؟ رتبرتا بنرجی کو پارٹی سے نکالا جا چکا ہے، پھر انہیں پارٹی کی نمائندگی کا کیا حق حاصل ہے؟‘‘ ترنمول کی رکن پارلیمنٹ ساگاریکا گھوش نے بھی باغی گروپ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ضابطوں کے مطابق صرف پارٹی کے مجاز نمائندے یا مجاز دستخط کنندہ ہی کمیشن سے رابطہ کر سکتے ہیں اور اس کی نمائندگی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ کوئی حقیقی دھڑا نہیں بلکہ چند افراد کا ایک گروپ ہے، جس کے خود ساختہ رہنما کو پہلے ہی پارٹی سے خارج کیا جا چکا ہے۔‘‘
رتبرتا بنرجی نے الیکشن کمیشن کی سماعت کا کیا خیرمقدم
دوسری جانب رتبرتا بنرجی نے 10 رکنی وفد کے ساتھ الیکشن کمیشن کے مکمل بینچ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دیگر الیکشن کمشنروں نے ان کے وفد کی بات صبر و تحمل کے ساتھ سنی۔ رتبرتا بنرجی نے کہا کہ 22 جون کو منعقدہ خصوصی اجلاس کے بعد انہوں نے تمام دستاویزات کمیشن کو فراہم کر دی تھیں اور مکمل بینچ سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے شکر گزار ہیں کہ وفد کو تفصیل سے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، اور کمیشن نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے پر مناسب کارروائی کرے گا۔
58 ارکان اسمبلی کی بغاوت سے بحران مزید گہرا
ترنمول کانگریس کے اندر سیاسی بحران اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کے 80 میں سے 58 ارکان اسمبلی نے ممتا بنرجی کی قیادت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ باغی ارکان اسمبلی نے رتبرتا بنرجی کی حمایت کرتے ہوئے انہیں مغربی بنگال اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف منتخب کیا اور 30 رکنی نئی قومی ورکنگ کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت کے بعد پارٹی کی قیادت اور تنظیمی اختیار کو لے کر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…