قومی

Teacher Slaps UKG Student So Hard Her Arm Breaks for Not Doing Homework: تم نے اپنا ہوم ورک کیوں نہیں کیا؟ٹیچر نے یوکے جی کی معصوم  طالبہ کو بے دردی سے مارا، ٹوٹا بازو، درج ہوئی ایف آئی ار

مدھیہ پردیش کے ضلع ستنا سے سامنے آنے والا یہ واقعہ نہ صرف تعلیمی نظام کے لیے شرمناک ہے بلکہ ہر اس والدین کے دل میں خوف پیدا کرنے والا ہے جو اپنے معصوم بچوں کو اعتماد کے ساتھ اسکول بھیجتے ہیں۔ ایک ایسی ننھی بچی، جو ابھی دنیا کو سمجھنا ہی شروع کر رہی تھی، اسے محض ہوم ورک نہ کرنے کی ایسی سنگین سزا دی گئی کہ اس کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔یہ واقعہ ستنا کے ایک معروف نجی اسکول کا بتایا جا رہا ہے۔ چوہان نگر پتیری علاقے کے رہنے والے سنجے شرما کی بیٹی، جو یوکے جی میں زیرِ تعلیم ہے، روز کی طرح اسکول گئی تھی۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ شام کو بستے کے ساتھ ساتھ ہاتھ پر پٹی اور پلاسٹر لے کر واپس آئے گی۔

متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ انگریزی پڑھانے والی خاتون ٹیچر نے نظم و ضبط کے نام پر تمام حدود پار کر دیں۔ بتایا گیا کہ بچی نے ہوم ورک مکمل نہیں کیا تھا، جس پر ٹیچر نے غصے میں آ کر اسے زور دار تھپڑ مار دیا۔ تھپڑ لگنے سے بچی کا توازن بگڑ گیا اور وہ زمین پر گر پڑی، جس کے نتیجے میں اس کے ہاتھ کو شدید چوٹ آئی۔ جب والدین اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور ایکس رے کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ ننھی طالبہ کا ہاتھ فریکچر ہو چکا ہے۔

یہ سوچنا بھی خوفناک ہے کہ اگر گرنے کے دوران بچی کے سر یا گردن پر چوٹ لگ جاتی تو کیا ہو سکتا تھا۔ اگر تھپڑ کان پر پڑتا تو اس کی سماعت ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتی تھی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمر کے بچوں کی ہڈیاں اور جسمانی اعضا انتہائی نازک ہوتے ہیں، ایسے میں معمولی تشدد بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔واقعے کے بعد جب متاثرہ خاندان انصاف کی تلاش میں اسکول پہنچا تو اسکول انتظامیہ کا رویہ اور بھی مایوس کن رہا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ جب انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دکھانے کا مطالبہ کیا تو اسکول انتظامیہ نے صاف انکار کر دیا۔ اسکول کے پرنسپل بھی اس معاملے پر میڈیا کے سامنے آنے سے گریز کرتے نظر آئے۔

آخرکار تھک ہار کر والدین نے سِول لائن تھانے میں متعلقہ ٹیچر کے خلاف شکایت درج کرائی، جس کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ واقعہ صرف ایک ٹیچر کے رویے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی ذمہ داری پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بچوں کے تحفظ اور تعلیم کے حق سے متعلق قوانین کے تحت اسکولوں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی ہے، اس کے باوجود ایسے واقعات کا سامنے آنا تشویشناک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کو نظم و ضبط سکھانے کا واحد طریقہ تشدد ہی رہ گیا ہے؟ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ نہ صرف قصوروار ٹیچر بلکہ اسکول انتظامیہ کی غفلت کی بھی مکمل جانچ کرے، تاکہ آئندہ کسی اور معصوم کا نہ ہاتھ ٹوٹے اور نہ ہی مستقبل۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Elon Musk wrote, “Thank you, Rahul: راہل گاندھی کے جواب سے خوش ہوئے ایلون مسک، بولے شکریہ راہل، یہ واقعی تشویش ناک ہے

راہل گاندھی نے ایلون مسک کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا تھا، ’’ایلون، بھارت…

1 hour ago

Abhijit Deepke, founder of CJP: کس خاتون نے ابھجیت دیپکے کی پیشانی چومی؟ جذباتی ہو کر بولے، میرا نیا خاندان

ابھجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے بنگلورو میں ملنے والی…

2 hours ago

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

12 hours ago