قومی

Tata Trusts Row: ٹاٹا ٹرسٹ تنازعہ: مہلی مستری نے سر دورابجی ٹاٹا ٹرسٹ میں بورڈ کے فیصلوں پر اٹھایا سوال، بورڈ کے خلاف سنگین بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے الزامات عائد

نئی دہلی: ملک کے معروف فلاحی ادارے ٹاٹا ٹرسٹ میں جاری تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں سابق ٹرسٹی مہلی مستری نے سر دورابجی ٹاٹا ٹرسٹ (ایس ڈی ٹی ٹی) کے بورڈ کے خلاف ایک نئی عرضداشت دائر کرتے ہوئے کئی سنگین بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے مہاراشٹر چیریٹی کمشنر کے سامنے پیش کی گئی اس درخواست میں پانچ ٹرسٹیوں، جن میں نول ٹاٹا، وینو سری نواسن اور وجے سنگھ شامل ہیں، کی تقرری اور کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ مہلی مستری نے الزام لگایا کہ بعض ٹرسٹیوں نے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے ٹاٹا گروپ کی کمپنیوں سے مالی فوائد حاصل کیے۔ ان کے مطابق وجے سنگھ نے بطور نامزد ڈائریکٹر مختلف کمپنیوں سے کمیشن اور معاوضے کی شکل میں کروڑوں روپے حاصل کیے، جو کہ ٹرسٹ کے اصولوں اور امانتی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مالی سال 2013-14 سے 2024-25 کے درمیان وجے سنگھ نے تقریباً 15.89 کروڑ روپے کمائے، جبکہ ان کی سالانہ آمدنی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔

مزید برآں، مستری نے الزام عائد کیا کہ وینو سرینواسن نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی کاموں کے لیے ٹاٹا کے ملازمین کا استعمال کیا، جو کہ مفادات کے تصادم اور امانتی اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان معاملات کی نشاندہی انہوں نے خود بورڈ کے اجلاس میں کی تھی، لیکن اصلاح کے بجائے انہیں ہی نشانہ بنایا گیا۔ مہلی مستری کے مطابق ان کی ٹرسٹی شپ ختم کیے جانے کی اصل وجہ یہی تھی کہ انہوں نے ان مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیگر ٹرسٹیوں نے بدنیتی کے تحت ان کی مدت میں توسیع نہیں کی، حالانکہ 17 اکتوبر 2024 کی ایک قرارداد کے تحت تمام ٹرسٹیوں کی دوبارہ تقرری بغیر کسی مدت کی حد کے متفقہ طور پر طے کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ اس قرارداد کو ان کے معاملے میں نظر انداز کیا گیا، جو امتیازی سلوک اور قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ مستری کا کہنا ہے کہ بعض ٹرسٹیوں نے اس قرارداد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تقرری تو برقرار رکھی، لیکن ان کے معاملے میں مختلف رویہ اپنایا گیا۔ عرضداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ فیصلے مہاراشٹر پبلک ٹرسٹس ایکٹ کے تحت درست طریقے سے رپورٹ نہیں کیے گئے، جس کے باعث بورڈ کی تشکیل ہی غیر قانونی ہو گئی۔ مستری نے ستمبر 2025 میں کیے گئے قانونی ترمیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مستقل بنیادوں پر ٹرسٹی بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اور اس کے لیے متفقہ منظوری ضروری ہے۔

مزید یہ کہ انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ ایک ٹرسٹی، وینو سرینواسن، اپنی مدت ختم ہونے کے باوجود ایک اہم ووٹنگ میں شامل ہوئے، جسے بعد میں خود ٹرسٹیوں نے غلط قرار دیا۔ مستری کے مطابق اس طرح کے اقدامات بورڈ کے فیصلوں کو غیر قانونی اور کالعدم بناتے ہیں۔ مہلی مستری نے اپنی درخواست میں کہا کہ ان کا مقصد دوبارہ ٹرسٹی بننا نہیں بلکہ ٹرسٹ کے نظام کو شفاف اور قانونی بنانا ہے۔ انہوں نے کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ بورڈ کو ہٹا کر ایک آزاد ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے تاکہ بدانتظامی کو روکا جا سکے اور ٹرسٹ کی ساکھ بحال ہو۔ یاد رہے کہ ٹاٹا ٹرسٹس، جن میں سر دورابجی ٹاٹا ٹرسٹ اور سر رتن ٹاٹا ٹرسٹ شامل ہیں، ٹاٹا سنز میں تقریباً 66 فیصد حصص کے مالک ہیں، جو پورے ٹاٹا گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ہے۔ یہ تنازعہ نہ صرف کارپوریٹ گورننس بلکہ ملک کے بڑے فلاحی اداروں کی شفافیت پر بھی اہم سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

7 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

7 hours ago