نئی دہلی: بھارت اور امریکہ کی حکومتوں نے بالآخر ایک عبوری ٹیرف معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد تجارتی رکاوٹوں میں کمی اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ فریم ورک جاری مذاکرات کے دوران طے پایا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو وسعت دی جا سکے اور ایک جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے کی بنیاد رکھی جا سکے۔ یہ بات پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر راجیو جونیجا نے کہی۔ راجیو جونیجا کے مطابق، اس عبوری معاہدے کے تحت امریکہ بھارتی مصنوعات پر 18 فیصد کا ریسیپروکل ٹیرف لاگو کرے گا۔ اس میں ٹیکسٹائل، ملبوسات، لیدر اور فٹ ویئر، پلاسٹک اور ربڑ، آرگینک کیمیکلز، ہوم ڈیکور، دستکاری کی اشیا اور منتخب مشینری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ مخصوص بھارتی برآمدی شعبوں جیسے جینرک فارماسیوٹیکلز، جواہرات اور ہیرے، اور ہوائی جہاز کے پرزہ جات پر ٹیرف مکمل طور پر ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، جو عبوری معاہدے کے کامیاب نفاذ اور حتمی شکل دینے سے مشروط ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ امریکہ بھارت کے ہوائی جہازوں اور ہوائی جہاز کے پرزہ جات پر عائد بعض قومی سلامتی سے متعلق ٹیرف بھی ختم کرے گا، جو پہلے اسٹیل، ایلومینیم اور کاپر سے متعلق اقدامات کے تحت لگائے گئے تھے۔ اعلان کردہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر کئی بھارتی شعبوں کو مثبت تجارتی فائدہ متوقع ہے۔جینرک ادویات کے شعبے میں امریکی مارکیٹ تک رسائی آسان ہوگی، جس سے بھارتی دوا ساز کمپنیوں کو بڑا فائدہ ملے گا۔ جواہرات اور زیورات کے شعبے میں کٹنگ اور پالشنگ صنعت کو فروغ ملنے کی امید ہے، جس سے برآمدات اور منافع میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہوابازی اور ایئرکرافٹ کمپوننٹس کے شعبے میں ٹیرف کے خاتمے سے بھارت کی ابھرتی ہوئی ایرو اسپیس مینوفیکچرنگ، مرمت اور دیکھ بھال کی صنعت کو تقویت ملے گی۔اسی طرح ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں کم ٹیرف کے باعث بھارتی برآمد کنندگان کی مسابقت بڑھے گی، خاص طور پر محنت طلب صنعتوں میں۔ انجینئرنگ مصنوعات اور مشینری، کیمیکلز، پلاسٹک اور ربڑ مصنوعات کو بھی بہتر قیمت مسابقت اور امریکی مارکیٹ تک وسیع رسائی ملنے کی توقع ہے۔ دستکاری اور ہوم ڈیکور جیسی مصنوعات کو بھی مستحکم رسائی اور بہتر ٹیرف سہولت سے فائدہ ہوگا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ٹیرف اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا اور متعلقہ حکام جلد تفصیلی رہنما ہدایات جاری کریں گے۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایک مکمل دوطرفہ تجارتی معاہدے کی سمت پیش رفت جاری رکھیں گے، جس میں اشیا، خدمات، ڈیجیٹل تجارت، سرمایہ کاری تعاون اور سپلائی چین کے استحکام جیسے شعبے شامل ہوں گے۔پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سی ای او اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر رنجیت مہتا نے کہا کہ یہ عبوری ٹیرف معاہدہ بھارت اور امریکہ کے تجارتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے دونوں ممالک کے برآمد کنندگان کے لیے مارکیٹ تک رسائی میں اضافہ ہوگا اور ایک مستحکم و جامع تجارتی فریم ورک فراہم ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر…
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…
میزبان ازبکستان نے آخری راؤنڈ میں یوکرین کو 2.5-1.5 سے شکست دے کر گولڈ میڈل…