تمل ناڈو میں آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس اور دروڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کو لے کر غیر یقینی صورتحال گہری ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے اس معاملے پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں اتحاد کے مستقبل کو لے کر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ریاست میں اس سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں اپنی انتخابی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ کانگریس تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد میں ضرور ہے، مگر موجودہ حکومت میں وہ براہِ راست اقتدار میں شریک نہیں۔ اسی پس منظر میں کانگریس کی جانب سے سیٹوں کی تعداد بڑھانے اور اقتدار میں مناسب شراکت کی مانگ نے دونوں جماعتوں کے درمیان کھچاؤ کو نمایاں کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کانگریس نے اس بار اسمبلی انتخابات میں 35 سے 40 نشستوں پر مقابلہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں اسے 25 نشستیں دی گئی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے حکومت میں شراکت داری کی بھی امید ظاہر کی ہے۔ ان مطالبات کے بعد سے کانگریس اور ڈی ایم کے کی کوآرڈینیشن کمیٹی کی کوئی باضابطہ میٹنگ نہیں ہو سکی، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ بدھ کے روز ڈی ایم کے کی پارلیمانی لیڈر کنی موزھی نے دہلی میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات سونیا گاندھی کی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر ہوئی اور تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ تاہم اس ملاقات میں بھی تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے لیے سیٹوں کی تقسیم پر کوئی حتمی اتفاق رائے نہیں بن سکا۔ اس ملاقات کے حوالے سے دونوں جماعتوں کی جانب سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی نے ڈی ایم کے پر زور دیا کہ پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ساتھ سنجیدگی سے بات چیت کی جائے۔ ساتھ ہی کانگریس قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاستی سطح پر کانگریس کے لیڈروں کے ساتھ احترام پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے۔ تمل ناڈو کانگریس کے بعض لیڈروں نے الزام لگایا ہے کہ ضلعی سطح پر ڈی ایم کے کے کچھ عہدیدار ان کے ساتھ مناسب برتاؤ نہیں کر رہے۔
دوسری جانب ڈی ایم کے کانگریس کو گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں بہت زیادہ نشستیں دینے کے حق میں نظر نہیں آتی۔ ذرائع کے مطابق ڈی ایم کے 27 یا 28 اسمبلی نشستیں اور ممکنہ طور پر ایک راجیہ سبھا سیٹ دینے پر غور کر رہی ہے، جو 2021 کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ڈی ایم کے سربراہ اور وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کے کانگریس قیادت کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں، اس لیے امکان ہے کہ یہ تنازع جلد حل ہو جائے گا۔ دونوں جماعتوں نے اشارہ دیا ہے کہ اتحاد برقرار رہے گا اور سیٹوں کی تقسیم پر جاری ابہام کو مناسب وقت پر ختم کر دیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…