سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز حکومتِ ہند کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں ایسے خریداروں کے مسائل پر، جنھیں برسوں سے اپنے فلیٹس کے قبضے کا انتظار ہے، خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتی۔ عدالت نے مزید کہا کہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے مفادات کا تحفظ کرے، خاص طور پر جب بات رہائش کے بنیادی حق کی ہو۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون کی دو رکنی بینچ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ نامکمل ہاؤسنگ پراجیکٹس میں فنڈنگ کے مؤثر طریقے تلاش کرے اور ضروری ہو تو ایسے منصوبوں کو خود اپنے کنٹرول میں لے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ’’یہ صرف مکانات یا اپارٹمنٹس کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس سے وابستہ بینکنگ سیکٹر، متعلقہ صنعتوں اور لاکھوں لوگوں کے روزگار کا مسئلہ بھی ہے۔‘‘ عدالت نے آئین کی دفعہ 21 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہائش کا حق صرف ایک معاہداتی حق نہیں بلکہ زندگی کے بنیادی حق کا ایک پہلو ہے اور اس کی حفاظت حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ’’حکومت کو یقینی بنانا ہوگا کہ شہریوں کا سپنوں کا گھر ایک مستقل ڈراؤنا خواب نہ بن جائے۔‘‘
دریں اثنا سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ ایک سخت فریم ورک بنائیں اور اس پر عمل درآمد کریں تاکہ کوئی بھی ڈیولپر خریداروں کو دھوکہ نہ دے سکے اور خریداروں کو ان کے گھر ملنے میں زیادہ تاخیر نہ ہو۔ عدالت نے کہا کہ شہری پالیسی میں بروقت منصوبے مکمل کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ عدالت نے بلیک منی اور ریئل اسٹیٹ میں سٹے بازی جیسے رجحانات کو ختم کرنے کے لیے فعال اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
کامن ویلتھ کبڈی چیمپئن شپ 2026 کے دوسرے دن بھارتی مردوں اور خواتین کی ٹیموں…
یوپی اسپیشل ٹی ای ٹی 2026 کا امتحان 3 نومبر کو دو شفٹوں میں ہوگا۔…
ہریدوار کے دیویہ پریم سیوا مشن کے فلاحی منصوبوں کے لیے وقف اور چھترپتی شیواجی…
مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کے ساتھ اتحاد سے کانگریس کا انکار، ریاستی صدر…
دو بار کی اولمپک تمغہ یافتہ پی وی سندھو نے سخت مقابلے میں جاپان کی…
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ملک کی پہلی خصوصی اے اے ٹی ایل تجربہ…