قومی

Supreme Court to hear plea for contempt case: نشی کانت دوبے کی مشکلات میں اضافہ، توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ نے تاریخ کردی طے

سپریم کورٹ اگلے ہفتے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی درخواست پر سماعت کرے گی۔ عدالت  نے توہین عدالت کے مقدمے کی درخواست پر سماعت کے لیے اگلے ہفتے کا وقت مقرر کیا ہے۔ یہ درخواست نشی کانت دوبے کے ان متنازعہ بیانات کے تناظر میں دائر کی گئی تھی جو انہوں نے سپریم کورٹ اور چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سنجیو کھنہ کے بارے میں دیے تھے۔ نشی کانت دوبے نے حال ہی میں کہا تھا کہ “اگر سپریم کورٹ کو قوانین بنانا ہے تو پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کو بند کر دینا چاہیے” اور یہ بھی الزام لگایا کہ “چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ ملک میں خانہ جنگیوں کے ذمہ دار ہیں”۔ ان بیانات کو عدالت کی توہین سمجھا گیا اور اس کے نتیجے میں کئی وکلاء نے اٹارنی جنرل آف انڈیا سے رابطہ کیا تاکہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جا سکے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اگستین جارج مسیح کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کو بتایا کہ اسے عدالت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اسے اٹارنی جنرل سے منظوری حاصل کرنی ہوگی۔ جسٹس گوائی نے کہاکہ آپ درخواست دائر کریں، اس کے لیے ہماری اجازت کی ضرورت نہیں۔ آپ کو اٹارنی جنرل سے منظوری لینی ہوگی۔اس کے بعد عدالت نے اس درخواست کو اگلے ہفتے کے لیے درج کرنے کا حکم دیا تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے۔

نشی کانت دوبے کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے تھےجب سپریم کورٹ وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی آئینی حیثیت کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ اس دوران مرکزی حکومت نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اس ایکٹ کے کچھ متنازعہ شقوں کو اگلی سماعت تک نافذ نہیں کرے گی۔ دوبے نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے اور پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیارات کو چھین رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ “سپریم کورٹ ملک کو انتشار کی طرف لے جا رہی ہے”۔ ان کے ان بیانات پر بی جے پی نےدوری اختیار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوبے کے ذاتی خیالات ہیں اور پارٹی ان سے متفق نہیں ہے۔ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے واضح کیا کہ پارٹی عدلیہ کے احترام کو یقینی بناتی ہے اور دوبے کے بیانات کو پارٹی کی پالیسی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

درخواست گزاروں کا موقف

سپریم کورٹ کے وکیل انس تنویر، جو وقف ایکٹ کے مقدمے میں ایک فریق کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی کو خط لکھ کر نشی کانت دوبے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت مانگی۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ دوبے کے بیانات “انتہائی شرمناک، گمراہ کن اور سپریم کورٹ کی عزت اور وقار کو کم کرنے کے لیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بیانات نہ صرف عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ عوام میں عدلیہ کے بارے میں عدم اعتماد پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک اور وکیل نریندر مشرا نے بھی چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججوں کو خط لکھ کر درخواست کی کہ عدالت خود اس معاملے کا نوٹس لے اور دوبے کے خلاف کارروائی شروع کرے۔سپریم کورٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اگلے ہفتے سماعت کے لیے درج کر لیا ہے۔ اب یہ اٹارنی جنرل پر منحصر ہے کہ وہ اس درخواست کو منظوری دیتے ہیں یا نہیں۔ اگر منظوری ملتی ہے تو نشی کانت دوبے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہو سکتی ہے، جو ان کے سیاسی کیریئر کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے سوال کو اٹھاتا ہے بلکہ سیاسی بیانات کی حدود کو بھی زیر بحث لا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

India Switzerland Talks: وزیراعظم مودی اور سوئس صدر گائے پارمیلن کی وفد کی سطح پر ملاقات، دوطرفہ تعاون پر تبادلۂ خیال

وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی…

5 minutes ago

Entertainment News: گزشتہ ایک دہائی میں فن کی جگہ آہستہ آہستہ تفریح لے رہی ہے: ربی شیرگل

ربی شیرگل کے گیتوں میں پنجابی موسیقی کے ساتھ راک، صوفی اور لوک موسیقی کا…

1 hour ago

CEC Suspension Plea: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا عبوری حکم دینے سے کیا انکار

گیانیش کمار کی معطلی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن…

2 hours ago