قومی

Supreme Court rebukes BJP MP Nishikant Dubey remarks on CJI: نشی کانت دوبے کے تبصرہ پر سپریم کورٹ نے لگائی پھٹکار، کہا- انتہائی غیر ذمہ دارانہ، عدالت نے دیا یہ حکم

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیوکھنہ پربی جے پی رکن پارلیمںٹ نشی کانت دوبے کے ذریعہ کئے تبصرے سے متعلق عدالت عظمیٰ نے سخت پھٹکارلگائی ہے اوراسے بے حد غیرذمہ دارانہ قراردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ تبصرہ توجہ مرکوزکرنے کے مقصد کوظاہرکرتا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں پھولوں کی طرح نازک نہیں ہیں، جواس طرح کے مضحکہ خیزبیانات پرمرجھا جائیں۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے یا گندی زبان استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ نازیبا تبصرہ کوبرداشت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس سے ٹارگٹ گروپ کے اراکین کے وقاراورعزت نفس کوٹھیس پہنچتی ہے۔ چیف جسٹس سنجیوکھنہ اورجسٹس سنجے کمارکی بنچ نے عرضی کا نمٹارہ کیا۔

وقف قانون سے متعلق کئے گئے تبصرہ سے ہوا تھا تنازعہ

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے سپریم کورٹ کے ذریعہ وقف (ترمیمی) قانون کوسنبھالنے کے طریقے سے متعلق تبصرہ کیا تھا، جس کے بعد یہ تنازعہ ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے اتوارکواے این آئی کودیئے گئے ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا، ”سپریم کورٹ اپنی سرحدوں سے باہرجا رہا ہے، اگرسب کچھ وہیں طے ہونا ہے توپارلیمنٹ کوبند کردیجئے۔“ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ عدلیہ مذہبی اختلافات کو ہوا دے رہی ہے اورچیف جسٹس سنجیوکھنہ پر خانہ جنگی کے لئے ذمہ دارہونے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے آرٹیکل 377 پرعدالت کے فیصلے کی بھی تنقید کی اوردعویٰ کیا کہ اس نے قانون سازی کے اختیارات کوغصب کیا ہے۔

بیان سے تنازعہ میں گھرگئے تھے نشی کانت دوبے، پارٹی نے کی کنارہ کشی

انہوں نے کہا، ”آپ اس ملک کوبدامنی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔“ بی جے پی نے نشی کانت دوبے کے تبصرہ سے خود کوالگ کرلیا۔ پارٹی صدرجے پی نڈا نے کہا کہ یہ تبصرہ نشی کانت دوبے کی ذاتی رائے تھی اورانہوں نے عدلیہ کے تئیں بی جے پی کے احترام کو دوہرایا۔ انہوں نے پارٹی لیڈران کواس طرح کے بیان دینے سے بھی متنبہ کیا۔ نشی کانت دوبے کو سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے بارے میں اپنے تبصرہ کے بعد تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد کافی تنازعہ ہوا۔ ان کے بیان کی سخت تنقید ہوئی، جس میں ان کی اپنی پارٹی بھی شامل تھی اوربی جے پی صدر نے عوامی طورپرنشی کانت دوبے کے بیانوں سے خود کو الگ کرلیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Afzal Ansari Arms Licence Case: افضل انصاری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت، اسلحہ لائسنس منسوخی کا معاملہ دوبارہ کمشنر کے پاس پہنچا

یوپی نیوز: غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے…

5 hours ago

UP Panchayat Election: یوپی پنچایت انتخابات پر الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا حکم، 3 ماہ کے اندر ووٹنگ کرانے کی ہدایت

اتر پردیش میں تین سطحی پنچایت انتخابات کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ نے…

5 hours ago